نوازشریف کے علاج کے لئے باہر جانے یا نہ جانے کافیصلہ کون کرے گا؟ ن لیگ نے دوٹوک اعلان کردیا

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی) مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ علاج کے لئے باہر جانے یانہ جانے کافیصلہ نواز شریف خود کریں گے، آزادی مارچ شیڈول کے مطابق ہو گااورپارٹی بھرپور شرکت کرے گی،حکمرانوں کی بدلے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو رہی، ایک طرف رابطے کر کے تیمارداری کی اجازت مانگی جا رہی ہے دوسری طرف انتقامی اقدامات جاری ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے  مرکزی رہنما خواجہ آصف نے کہاکہ آزادی مارچ کا شیڈول پہلے کی طرح ہی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے،اس شیڈول کو نواز شریف کی مکمل حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے خدشات قائم ہیں۔حکومتی کارندوں نے نواز شریف سے ملنے کی کوشش کی ہے ان کی زبان ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے،دعا کرنی چاہیے کہ دشمن بھی کم ظرف نہ ملے،ان لوگوں نے نواز شریف کی صحت کو مذاق بنایا ہے اس بات کو نہ ہم بھولیں گے اور نہ عوام بھولے گی۔انہوں نے کہاکہ اس مشکل وقت میں بھی حکومت کی انتقامی کارروائیاں جاری ہیں لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ہماری نواز شریف کی رہائی کے لئے عدالتی جنگ جاری رہے گی۔ہمارا موقف رہا ہے کہ نواز شریف کا پانامہ سے کوئی کردار ثابت نہیں ہوالیکن اقامہ پر سزا دے دی گئی جو مس کیرج آف جسٹس ہے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی بریت ان کا حق ہے ہمیں اللہ سے نواز شریف کی صحت اور انصاف کے حوالے سے بڑی امیدیں ہیں۔نواز شریف کا بیرون ملک علاج کروانے کا فیصلہ نواز شریف نے خود کرنا ہے۔نواز شریف اگر بیرون ملک علاج کروانے یا نہ کروانے کا فیصلہ کرینگے تو ان کے فیصلے کا احترام کرینگے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی بیماری کے سلسلے میں حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔نواز شریف کو مختلف بیماریوں ہیں جن پر ڈاکٹرز غور کر رہے ہیں نواز شریف کا علاج معالجہ بھی بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے اگر وقت پر نواز شریف کی صحت کے حوالے سے صحیح فیصلے ہو جاتے تو ایسے حالات نہ ہوتے۔

انہوں نے کہاکہ اشریف خاندان نے 35 سال عوام کی خدمت کی ہے لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک مناسب بات نہیں،آئین و قانون اور ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو آج تک کسی نے نہیں پوچھااگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر ہو گی۔آج وہ نواز شریف کی تیمارداری کے لئے منتیں کر رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہاکہ نواز شریف سے محبت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ نواز شریف کی صحت کے لئے جمعہ کو خصوصی دعا کی جائے، ان کی صحت کے حوالے سے خدشات ہیں لیکن وہ سٹیبل ہیں اللہ انہیں مکمل صحت عطا فرمائے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی کنڈیشن کے حوالے سے دنیا بھر میں لکھا گیا کہ اس حالت میں مریض کو ٹینشن نہیں دینی چاہئے،

اس حالت میں مریض کو ٹینشن دینا زہر دینے کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود مریم نواز کو رات 2 بجے واپس جیل جانے کو کہا گیا،اس دوران نواز شریف کو آرام کرتے کو اٹھایا گیا،اگر رات کو یہ ٹینشن پیدا نہ کی جاتی تو کون سی پاک بھارت ایٹمی جنگ چھڑ جانی تھی یہ حالت حکمرانوں کی چھوٹی سوچ ہے۔انہوں نے کہاکہ بغض، کینہ اور پتھر دل والے یہ حکمران ہیں وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔نواز شریف نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایااوروہ آج بھی کروڑوں عوام کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔نواز شریف نے اپنی سیاست کو غریبوں کسانوں کے لئے وقف رکھا،آج نواز شریف کو اس عوام کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں نواز شریف کی اپیل کی سماعت کے دوران ملک کے ٹاپ میڈیکل ماہرین اور بین الاقوامی ماہرین نے نواز شریف کی سنگین حالت بارے بتایا تھا۔سب ڈاکٹروں کی متفقہ رائے تھی ان کے علاج معالجے کی ضرورت ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیااگر اس وقت نواز شریف کے علاج کی اجازت کی دی جاتی تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی جو المیہ ہے اس سے لگتا ہے کہ نواز شریف کو انصاف نہیں ملا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر