آزادی مارچ شیڈول کے مطابق کس تاریخ کو اسلام آباد میں داخل ہوگا؟واپسی کا فیصلہ کون کرے گا؟ مولانا فضل الرحمن نے حکمت عملی کا اعلان کردیا

سوشل میڈیا‎‎

سکھر(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آزادی مارچ شیڈول کے مطابق 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا اس کی تاریخ میں ردو بدل کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم اس کی واپسی کا فیصلہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کرے گی آزادی مارچ ہوکر رہے گا لوگ پیدل بھی آئیں گے اور خچروں پر سوار ہوکر بھی آئیں گے عوام کی امیدیں اب آزادی مارچ سے وابستہ ہیں

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر کے مدرسہ جامعہ حمادیہ منزل گاہ میں جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر انکے ہمراہ قائد سندھ علامہ راشد محمود سومرو، مرکزی انفارمیشن سیکریٹری اسلم غوری و دیگر رہنما موجود تھے، مولانا فضل الرحمن کا مزید کہنا تھا کہ 27 اکتوبر کو کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کریں گے اور ملک بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ تقریبات میں شرکت کریں گے27 اکتوبر کو کراچی میں اجتماع ہوگا ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے کشمیری عوام کو مایوس کیاہے یہاں قتل حسین بھی ہے اور ہائے ہائے حسین بھی ہے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے آزادی مارچ میں تمام طبقات شریک ہونا چاہتے ہیں ہمارے موقف پر تمام جماعتیں متفق ہیں کہ اب یہ دھاندلی سے اقتدار میں آئی حکومت کو چلنے نہیں دیں گے ان کا کہنا تھا کہ ہماری رہبر کمیٹی نے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کرنے سے انکار نہیں کیا ہے  آج  حکومتی ٹیم سے مذاکرات ہونگے اور پھر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس کا جواب دیا جائے گا تاہم جس ٹیم کے سربراہ پرویز خٹک ہونگے اس کا انجام کیا ہوگا  ان کا لب و کامرانی لہجہ مذاکرات کرنے والا نہیں ہے ایک طرف یہ آزادی مارچ کی اجازت دے رہے ہیں دوسری طرف ہماری راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں دکانیں، پیٹرول پمپس وغیرہ بند کرائے جارہے ہیں لیکن جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں کریں ہم اسلام آباد پہنچ کر رہیں گے

ان کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں  میں تمام جماعتوں سے کہتا ہوں کہ ہمت نہیں ہارنی ہے اور پوری قوت سے ہمیں عوام کو سہارا دینا ہے الیکشن کے بعد تمام جماعتوں نے متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن ٹریبونل میں نہیں جانا ہے جے یو آئی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی خراب صحت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی صحت یابی کے لئے دعا کی گئی ہے

ان کا کہنا تھا کہ بیماری کی حالت میں قید و بند کی صعوبت دینا جابر حکمران کی نشانی ہے اور اس وقت ملک میں ایسے جابر حکمران کی حکومت ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ کرپشن ختم ہورہی ہے مگر یہاں تو کرپشن بڑھ رہی ہے الیکشن کے بعد ایوان میں دھاندلی کی آواز اٹھی ہے ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کے اتحاد کی وجہ سے لانگ مارچ کامیاب ہو بنے گا ہم الیکشن کو نہیں مانتے اگر مذاکراتی کمیٹی آئے تو وزیر اعظم کا استعفے بھی ساتھ لائے

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر