آزادی مارچ،جڑواں شہروں کی انتظامیہ اور جے یو آئی نے اپنی اپنی حکمت عملی تیار کرلی،منصوبے منظر عام پر آگئے،حیرت انگیز انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

راولپنڈی (آن لائن)وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں 31اکتوبرکے آزادی مارچ کے لئے جمعیت علما اسلام (ف)اور جڑواں شہروں کی انتظامیہ وپولیس نے اپنی اپنی حکمت عملی وضع کر لی ہے جس کے لئے پلان اے، بی اور سی ترتیب دیئے گئے ہیں،جمعیت علما اسلام راولپنڈی اور اسلام آبادکی تنظیموں نے حق میزبانی کے تحت منصوبہ بندی کوحتمی شکل دے دی ہے

جس کے تحت چاروں صوبوں سے آنے والے آزادی مارچ کے شرکا کے جڑواں شہروں میں داخلے پرانہیں ضروری سہولیات فراہم کرنا جبکہ انتظامیہ و پولیس نے جڑواں شہروں میں شرکا کے داخلے کو روکنے کے لئے انتظامات مکمل کر لئے ہیں اس ضمن میں آزادی مارچ کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ و جمعیت علما اسلام (ف)اسلام آباد کے سینئر نائب صدر مفتی اویس عزیز نے رابطہ کرنے پر”آن لائن“کو بتایا کہ قبل ازیں 27اکتوبر کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے اور سہ پہر4بجے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جبکہ 27اکتوبر کو ہی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ کراچی سے روانہ ہو گا اسی طرح بلوچستان سمیت خیبر پختونخواہ اور پنجاب سے بھی قافلے روانہ ہوں گے جو 31اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوں گے انہوں نے کہا بعض لوگ آزادی مارچ کو دھرنے سے منسوب کر کے منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جبکہ قیادت کی جانب سے فی الوقت دھرنے کی کوئی کال نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ مارچ پر امن ہو گا لیکن انتظامیہ و پولیس نے کسی بدمزگی کی کوشش کی تو پھر خود بخود پورا ملک جام ہو جائے گا ادھر صوبائی حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کو روکنے کے لئے پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنروں کے اختیارات میں اضافہ کے نوٹیفکیشن کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے بھی حکمت عملی مرتب کر لی ہے

جس کے تحت راولپنڈی پولیس مارچ کے شرکاسے نمٹنے کے لئے واٹر کینن، اینٹی رائیٹ فورس، پنجاب پولیس، شیلنگ کا استعمال،مختلف فارمیشن کی تیاری مکمل کر لی ہے ڈپٹی کمشنروں کو دیئے گئے اختیارا ت کے تحت ریاست مخالف اقدامات پر ڈپٹی کمشنر کاروائی کرنے اورریاست کے خلاف بغاوت پر مقدمہ درج کروانے کا مجاز ہوگا وفاقی یا صوبائی حکومت کے بجائے اب ڈپٹی کمشنر مقدمہ درج کرواسکے گا

سیکشن 123 بی،سیکشن 124اے، سیکشن 180اے، سیکشن 294اے میں مدعی ڈپٹی کمشنر ہوگا ادھر راولپنڈی پولیس کے ترجمان کے مطابق سی پی او محمد فیصل رانا نے مارچ کے شرکا سے نمٹنے کیلئے پولیس لائن راولپنڈی میں جوانوں کو ٹریننگ اور بریفنگ دی 3 ہزار پولیس اہلکار باہر سے بلوائے جائیں گے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی،جدید طرز پر جوانوں کو ٹریننگ دی گئی تاکہ ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کیا جا سکے جبکہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سیف اللہ ڈوگر کے مطابق شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے پولیس کی مشقیں عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہیں

ڈپٹی کمشنر کے اختیارات میں اضافہ محض آزادی مارچ کے حوالے سے نہیں کنٹینرز مالکان کو معاوضہ دیا جائے گاکتنا معاوضہ دینا ہے اسکا ابھی فیصلہ نہیں ہواسی پی او راولپنڈی فیصل رانا کے مطابق جڑواں شہروں کی پولیس کی مشترکہ حکمت عملی کی وجہ سے کوئی شخص بھی قانون شکنی سے شہریوں کی شخصی آزادی کو ایک لمحے کے لئے بھی ڈسٹرب نہیں کر سکے گا،قانون شکنوں سے نمٹنے کے لئے پلان اے،بی اور سی تیار ہیں قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قانون شکنوں سے ہوتا ہے،حالیہ صورتحال کے حوالے سے وزارت داخلہ نے جو ایس او پی جاری کئے ہیں ان پر عمل در آمد شروع ہو چکا ہے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نے جن عناصر سے قانون شکنی کے خدشات کا اظہار کیا ہے ان کی لسٹیں اپ ڈیٹ کر کے تھانوں کے حوالے کی جا چکی ہیں ہم نے ہر قیمت پر قانون کی حکمرانی قائم رکھ کر عوام کی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر