میاں نواز شریف 10 ارب ڈالرز دینے پر رضا مند، معروف صحافی نے ڈیل کا انکشاف کر دیا

سوشل میڈیا‎‎

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم و ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف 10 ارب ڈالرز دینے کے لیے رضا مند ہو گئے، اس بات کا انکشاف معروف صحافی صابر شاکر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں کیا انہوں نے کہا کہ پس پردہ کئی معاملات چل رہے ہیں، اس سلسلے میں سروسز ہسپتال میں میاں نواز شریف سے کسی نے ون ٹو ون ملاقات بھی کی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی ایک کروڑ کے 2 ضمانتی مچلکوں کے عوض طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی۔عدالت عالیہ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کی جانب سے اپنے بھائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائی کے لیے دائر درخواست پر مذکورہ درخواست پرسماعت کی۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نواز شریف کی طبیعت تشویشناک حد تک خراب ہے لہذا ان کو رہائی دی جائے تاکہ ان کاعلاج ہوسکے۔مذکورہ درخواست کی سماعت کر کے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے تھے جبکہ گزشتہ روز اس درخواست میں نواز شریف نے بذات خود بھی فریق بننے کی درخواست دی تھی۔سماعت میں حکومت پنجاب کی نمائندگی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کی جبکہ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر فیصل بخاری پیش ہوئے۔شہباز شریف کی جانب سے دائر درخواست کی پیروی کے لیے اشتر اوصاف علی پیش ہوئے جنہوں نے عدالت میں کہا کہ نواز شریف کی حالت تشویشناک ہے۔سماعت کی ابتدا میں ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کا علاج بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جارہا ہے اور مجھ بتایا گیا ہے کہ ان کی بیماری قابلِ علاج ہے اور وہ اس حالت میں سفر نہیں کرسکتے۔عدالت نے اس سلسلے میں نیب کا موقف دریافت کیا تو پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ نواز شریف سمیت ہر شخص کی زندگی اہم ہے اور پاکستان میں علاج معالجے کی تمام سہولیات موجود ہیں۔

دورانِ سماعت لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کی جان خطرے میں ہے؟جس پر ڈاکٹر محمود ایاز کا کہنا تھا کہ جی نواز شریف کی طبیعت تشویش ناک ہے، نواز شریف اس وقت سفر کر سکتے ہیں جب ان کے پلیٹلیٹس 50000 ہوں اس سے پہلے نہیں۔بعدازاں عدالت نے نیب پراسیکوٹر سے دریافت کیا کہ کیا نیب اس درخواست ضمانت کی مخالفت کرتا ہے؟جس پر نیب وکیل کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن ہے تو ادھر ہی علاج ہونا چاہیے لیکن اگر نواز شریف کی صحت خطرے میں ہے تو ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں۔سماعت میں دلائل دیتے ہو ئے نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کی طبیعت زیادہ خراب ہے اور ان کا بہترین علاج ہونا چاہیے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر