بحیرہ عرب سے اٹھنے والے طوفان کے باعث صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی،کراچی کے متعلقہ محکموں میں ایمرجنسی نافذ،51 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے

سوشل میڈیا‎‎

پنگریو(این این آئی)بحیرہ عرب سے اٹھنے والے طوفان کے باعث ضلع بدین کے ساحلی علاقوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی ہے اورسمندری پانی کافی اوپر آگیا ہے جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں سے نقل مکانی کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں سمندری طوفان کیار کے اثرات کے باعث پنگریو اورزیریں سندھ کے دیگرعلاقوں میں آسمان پربادل چھاگئے ہیں اورہلکی ہوائیں چلنا شروع ہوگئی ہیں

سمندری طوفان کے باعث ساحلی علاقوں کے دیہاتوں کے مکینوں میں شدیدخوف وحراس پھیل گیا ہے اس حوالے سے فشرفوک کے رہنما عمرملاح نے رابطہ کرنے پربتایا کہ فی الحال ضلع بدین کے ساحلی علاقوں سے لوگوں کاانخلا شروع نہیں ہوا تاہم کسی ایمرجنسی کی صورتحال کے لیے ساحلی علاقوں کے عوام کو تیار رہنے کے لیے آگاہی دے دی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ سمندری لہروں کا پانی ٹھٹھہ اورسجاول اضلاع کی ساحلی آبادیوں میں داخل ہوگیا ہے مگرضلع بدین میں اب تک ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی تاہم صورتحال پرہماری گہری نظر ہے انہوں نے بتایا کہ گہرے سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کو پہلے ہی خطرے کے بارے میں پیغامات بھیج دیے گئے تھے اورکافی ماہی گیرواپس آگئے ہیں ماہی گیروں کو مزیدتین روزتک سمندرمیں جانے سے روک دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کیار طوفان کے باعث ضلع بدین میں منگل یا بدھ کے روزلہریں مزیدبلندہونے کا خدشہ ہے جبکہ بارش اورگردآلود تیزہوائیں چلنے کابھی امکان ہے جس کی وجہ سے ضلع بدین کی ساحلی پٹی میں بھی انسانی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے فشرفوک فورم اورضلعی انتظامیہ نے تیاری کررکھی ہے۔میئر کراچی وسیم اختر نے سمندری طوفان کی پیش گوئی کے بعد بلدیہ عظمیٰ کراچی کے متعلقہ محکموں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فائر بریگیڈ، میونسپل سروسز، سٹی وارڈنز، ریسکیو اور اسپتالوں میں عملے کو ڈیوٹی پر حاضر رہنے کی ہدایت کردی،

میئرکراچی نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سمندری طوفان کے پیش نظر فی الحال ہاکس بے اور دیگر ساحلی تفریحی مقامات پر جانے سے گریز کریں جبکہ ساحلی مقامات پر پہلے سے موجود شہری فوری طور پر سمندر سے دور ہوجائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرناک صورتحال سے محفوظ رہ سکیں، سمندری طوفان کے ساتھ تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے امکان کے پیش نظر میئر کراچی نے ہاکس بے کے ساحل پر تعینات بلدیہ عظمی کراچی کے ریسکیو عملے اور سٹی وارڈنز کو بھی ہدایت جاری کی کہ وہ شہریوں کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کریں اور سمندر میں نہ جانے دیں،

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہرممکن احتیاط برتی جائے، ساحلی علاقوں کے مکین بھی سمندر میں جانے سے گریز کریں اور طوفانی ہواؤں سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کے الیکٹرک اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کریں،شہری حفاظتی اقدامات کے پیش نظر طوفانی ہواؤں کے دوران بڑے ہورڈنگز بورڈ کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کریں اوربارش ہونے کی صورت میں بجلی کے پولز سے دور رہیں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جاسکے،متوقع بارشوں کی صورت میں میونسپل سروسز کا عملہ پانی کی نکاسی کے لئے مشینری کے ساتھ تیار رہے

تاکہ شہریوں کو کسی بھی مشکل صورتحال سے محفوظ رکھا جاسکے۔بحیرہ عرب میں اب تک کا سب سے طاقت ور سمندری طوفان کیار نے کراچی کی ساحلی پٹی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے،ہاکس بے کے چند علاقے، ابراہیم حیدری اور کیماڑی کے ساحلی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، میئر کراچی وسیم اختر نے سمندری طوفان کیار کے پیش نظر مختلف محکموں کو الرٹ کر دیا، ایمرجنسی بھی نافذ کر دی ہے جبکہ کمشنرکراچی نے کراچی میں دفعہ 144کے دوبارہ نفاذ کے لیے ہوم ڈپارٹمنٹ کو خط لکھ دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بحیرہ عرب میں اب تک کا سب سے طاقت ور سمندری طوفان کیار نے کراچی کی ساحلی پٹی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے،

مختلف ساحلی علاقوں کے 300 سو سے زیادہ مکانوں میں پانی داخل ہو گیا، لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی، ہاکس بے روڈ ڈوب گئی ہے، ڈی ایچ اے گالف کلب بھی زیر آب آ گیا، سمندری طوفان کی پیش گوئی کر دی گئی ہے۔میئر کراچی وسیم اختر نے سمندری طوفان کی پیش گوئی پر متعلقہ محکموں میں ایمر جنسی نافذ کردی ہے۔وسیم اختر نے کہا ہے کہ فائر بریگیڈ، میونسپل سروسز، سٹی وارڈنز، ریسکیو اور اسپتالوں میں عملہ حاضر رہے۔میئر کراچی نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور کیالیکٹرک حفاظتی اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ شہری حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ہورڈنگز بورڈ کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کریں۔میئر کراچی نے ہدایت کی کہ

میونسپل سروسز کا عملہ پانی کی نکاسی کے لیے مشینری کیساتھ تیار رہے۔ادھر سمندری طوفان سے ٹھٹھہ کے 51 سے زائد دیہات زیر آب آ گئے ہیں، سجاول کے علاقے شاہ بندر اور جاتی کے کئی دیہات میں پانی داخل ہو چکا، بلوچستان کے علاقے مکران کی مختلف ساحلی آبادیاں بھی زیر آب آ گئی ہیں، ساحل کے قریب نمک پلانٹس تباہ ہو گئے۔میئر کراچی نے کہا ہے کہ سمندری طوفان کے پیش نظر شہری ساحل پر جانے سے گریز کریں، اور پہلے سے موجود شہری فوری ہاکس بے خالی کر دیں۔ حکومت کی جانب سے کیٹی بندر، فش ہاربر سے ماہی گیروں پر لانچیں سمندر میں لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور ماڑہ، گوادر، پسنی کے ماہی گیروں پر بھی سمندر میں لانچیں لے جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے مطابق ماہی گیروں کو30اکتوبر تک سمندر میں جانے سے روک دیا گیا ہے، طوفان کیار کے پیش نظر ماہی گیر سمندر میں جانے سے گریز کریں۔کمشنر کراچی نے بتایاکہ کراچی میں سمندری پانی گھروں میں آیا ہے لیکن بڑا نقصان نہیں ہوا، کافی مقامات سے سمندری پانی واپس چلا گیا ہے جبکہ طوفان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کرنے کی سفارش کردی گئی ہے۔طوفان کی وجہ سے نہ صرف سمندر میں نہانے پر پابندی ہے بلکہ فشنگ بوٹس پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹائیڈل کیفیت ہے جو چھ گھنٹوں کے لیے ہوتی ہے پھر واپس ہوجاتی ہے جبکہ سمندری پانی گھروں میں آیا ہے لیکن بڑا نقصان نہیں ہوا۔افتخار شلوانی نے کہا کہ کافی مقامات جیسے ملیر سے سمندری پانی واپس چلا گیا ہے۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے بتایا کہ

محکمہ داخلہ کو سمندر کے اطراف دفعہ 144 لگانے کی درخواست کر دی گئی ہے، سمندری پانی سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے لیے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے سمندری طوفان کیار کے زیر اثر آ چکے ہیں، ڈام بندر، اورماڑہ، کنڈ ملیر میں بھی سمندری پانی رہایشی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے پی ڈی ایم اے کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ضیا لانگو نے پیغام جاری کیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں، ہنگامی صورت میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، پی ڈی ایم اے کے ضلعی افسران اور اہل کار جائے تعیناتی پر موجود رہیں۔ انھوں نے زیر اثر آنے والے علاقوں میں اشیائے خور و نوش بھی موجود رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر