پیمرا کی جانب سے پابندی عائد کئے جانے پر ٹی وی اینکرز کا شدید ردعمل سامنے آگیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان کے معروف ٹی وی اینکرز نے پیمرا کی جانب سے اینکرز کو دوسرے ٹی وی چینل پر سیاسی معاملات سے متعلق تجزیہ دینے پر پابندی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یہ پابندیاں آمرانہ، ظالمانہ اور آزادی اظہار کے خلاف فیصلہ قرار دیدیا۔ ایک مشترکہ بیان میں اینکرز نے پیمرا کے احکامات کو آئین پاکستان کے خلا ف قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ پیمرا کا دائرہ کار ہی نہیں کہ وہ پروگراموں کے مہمانوں، ماہرین اور تجزیہ نگار وں کے حوالے سے فیصلہ کرے۔

بیان میں کہاگیاکہ پیمرا کے احکامات کے مطلب یہ ہے کہ ریاست فیصلہ کرے گی کہ کون کس موضوع با ت کر ے، یہ ریاست اور اداروں کا کام نہیں ہے کہ فیصلہ کرے کون صحافی ہے اور کون صحافی نہیں ہے۔اینکرز نے کہاکہ وہ وزیر اعظم عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت کو اس فیصلے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ آئین کے مطابق منتخب حکومت تمام اداروں کے فیصلوں کی جواب دہ ہے،یہ ضروری نہیں کہ کون فرنٹ اور کون بیک پر ہے۔بیان میں کہاگیاکہ ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا کی مزاحمت کی ایک لمبی تاریخ ہے، ہم نے جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بحالی کیلئے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف لڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دہشتگردی اور شدت پسندی کے خلاف بھی جنگ کی ہے،ہم نے اس جنگ میں سینکڑوں ساتھی کو کھویا ہے اور سختیاں، دھمکیاں، ہراساں کر نے کے واقعات کا سامنا اور ہزاروں صحافیوں بے روز گار کر تے ہوئے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ حقوق کیلئے جنگ کیسے کی جائے؟۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کی بقاء کیلئے اختلاف رائے اہم ہے،اس کے تحفظ کیلئے ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں حتیٰ کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر تحریک بھی شروع کر سکتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ ہم فوری طورپر پیمرا کے نوٹیفکیشن کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم صحافیوں کو بڑھتے ہوئے ایڈوائس اور ہراساں کر نے کے واقعات کے فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔بیان میں کہاگیاکہ ہم صحافیوں کے براہ راست اور باالواسطہ دھمکیوں کو بند کر نے کا مطالبہ کرتے ہوئے،جن صحافیوں اور اینکرز نے بیان جاری کیا ہے اس میں حامد میر، محمد مالک، کاشف عباسی، عامر متین، مہر عباسی، اویس توحید،عاصہ شیرازی، ارشد شریف، رؤف کلاسرا،مظہر عباس،شاہ زیب خانزادہ،منصور علی خان،نسیم زہرا،طاہر خان،منزے جہانگیر اور شوکت پراچہ شامل ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر