وزارت خزانہ اور تاجر نمائندوں کے درمیان مذاکرات ،آج بروز بدھ ہڑتال ہوگی یا نہیں؟ بڑا اعلان کردیاگیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) وزارت خزانہ اور تاجر نمائندوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعدتاجروں نے (آج)بدھ کو بھی ملک بھر میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق منگل کو نئے ٹیکسز کے نفاذ اور شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق حکومتی پالیسی کے خلاف تاجر برادی نے ملک گیر ہڑتال کی،تاجر برادری کی جانب سے 29 اور 30 اکتوبر کو ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ اس حوالے سے آل پاکستان انجمن تاجران اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان

مذاکرات بھی ناکام ہوگئے تھے۔تاجر برادری کی جانب سے ملک بھر کی مارکیٹوں اور تجارتی مراکز میں احتجاج بھی کیا گیا احتجاج کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔دوسری جانب تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ متحرک ہوئے اور انہوں نے تاجر رہنماو ¿ں کو مذاکرات کیلئے وزارت خزانہ مدعو کیا۔مشیر خزانہ کے طلب کیے جانے پر تاجر رہنما اجمل بلوچ، نعیم میر اور خواجہ محمد شفیق نے وزرات خزانہ کے حکام سے مذاکرات کیے۔اعلامیے کے مطابق تاجر نمائندوں، ایف بی آر اور مشیر خزانہ کے درمیان 5 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے تاہم یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے اور ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری، چیئرمین خواجہ سلمان صدیقی نے دیگر تاجروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت و مشیر خزانہ و ایف بی آر کے چیئرمین کے ساتھ متعدد مرتبہ مزاکرات کے راونڈز ہوچکے ہی۔ انہوںنے کہاکہ ہمیشہ ایف بی آر مزاکرات سے پیچھے ہٹا جاتا ہے۔انہوںنے کہاکہ بھی حکومتی ٹیم سے مذاکرات ہوئے ،مذکرات میں وزارت خزانہ ، ایف بی آر کے زمہ داران کے علاوہ جہانگیر ترین بھی موجود تھے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ شناختی کارڈ کی شرط ختم کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ ایف بی آر والے یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہتے ہیں کہ آئی ایم۔ایف والے نہیں مانتے۔خواجہ سلیمان نے کہاکہ ملک بھر میں تاجروں کے احتجاج کو چار ماہ ہوچکے ہیں،

پہلے کی طرح آج بھی مذاکرات ناکام ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ شناختی کارڈ کی شرط نہیں مانی گئی ،ہمیں کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف شناختی کارڈ ختم کرنے والی شرط نہیں مانتا۔ ہمیں بتایاگیا کہ اگر شناختی کارڈ کی شرط ختم کی گئی تو ایف اے ٹی ایف بلیک لسٹ کردے گا،ایف بی آر مینوفیکچرز کے پاس کیوں نہیں جاتا۔ انہوںنے کہاکہ اگر حکومت نہ مانی تو غیر معینہ مدت تک ہڑتال کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ تاجروں کا مطالبہ ہے ٹیکس آمدن پہ لگایا جائے ۔ایف بی آر کے رشوت اور کرپٹ نظام کی وجہ سے

تاجر ٹیکس نیٹ سے نکلتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایف بی آر ٹیکس کا آسان اور سادہ طریقہ کار لانے کو تیار نہیں انہوکںنے کہاکہ مذاکرات میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا فکسڈ ٹیکس سکیم نہیں دے سکتے ،شناختی کارڈ کی شرط پرہی ڈیڈ لاک شروع ہوگیا تھا ،ایف بی آر کے پاس کوئی قابل عمل فارمولا نہیں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اصولی موقف پر قائم ہیں کہ چھوٹا تاجر ڈاکومینٹئشن نہیں کرسکتا ،اگر حکومت نے حکمت عملی نہ بدلی تو اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ

لاکھوں تاجر معیشت کے استحکام کے لئے مارچ کریں گے ،بجلی کے لاکھوں رجسٹرڈ کمرشل میٹرز کو این ٹی این نمبر دئیے جائیں۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا جس کے بعد بدھ کو بھی ہر صورت ہڑتال کی جائے گی۔اس اعلان کے ساتھ ہی بدھ کو بھی ملک بھر کے تجارتی مراکز و مارکیٹیں بند رہیں گی۔ اس سے قبل رواں ماہ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں ملک بھر کے تاجروں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا

جس کے دوران تاجروں کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل آلات کیلئے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرکے واپس 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے اور 50 ہزار سے زائد کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھنے کی شرط کے خلاف تاجر برادری نے 13 جولائی کو بھی ملک گیر شٹر ڈاو ¿ن ہڑتال کی تھی۔دوسری جانب دو روز

قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اعتراف کیا کہ شناختی کارڈ کی شرط کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں، اس پر ہمارے پاس دو راستے ہیں، شناختی کارڈ کی شرط ختم کردیں یا کوئی درمیانی راستہ نکالیں تاہم بعد ازاں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور ایف بی آر اپنی پوزیشن پر قائم ہے لہٰذا 50 ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط پر نرمی نہیں برتی جائے گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر