نواز شریف کو فیصلے میں ریلیف دیا گیا،سزا موجود ہے،فیصلے کا دوسرے کیسز پر کیا اثر پڑے گا؟معروف قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان کے انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی)وزیر اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے سیاسی محاذ پر کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی، مولانا زور لگا کر نواز شریف کو دھرنے میں لے کر چلے جائیں تو رونق میلہ لگ جائے گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

حکومت نے علاج کے حوالے سے نواز شریف کو تمام سہولیات دیں، 8 ہفتے بعد بھی اگر خدانخواستہ وہ ٹھیک نہیں ہوتے تو پھر پنجاب حکومت کو درخواست دیں گے۔ عدالت نے سارا آپشن 8 ہفتے کے بعد رکھا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پیرول پر رہائی باقی قیدیوں کو بھی ملتی ہے لیکن باہر جانے کے لیے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام خارج ہونا ضروری ہے۔ ایگزٹ کنٹرول لسٹ قانون کے مطابق بیرون ملک کی درخواست دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے معاملے میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے متوازن فیصلہ دیا ہے۔ عدالت نے بحث کے دوران چار آپشنز بتائے تھے جن میں سے پہلے تینوں آپشنز کو ملا کر فیصلہ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو فیصلے میں ریلیف دیا گیا لیکن سزا تو موجود ہے۔ اگر نواز شریف کو 8ہفتوں کے بعد علاج کی ضرورت نہیں ہوگی تو واپس جیل جائیں گے۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ دوسرے کیسز کے لیے بھی مثال بن گیا ہے، فیصلے کو عبوری فیصلہ سمجھتا ہوں، عدالت کا فیصلہ کسی کے حق یا خلاف ہو سب کو احترام کرنا چاہیے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر