شناختی کارڈ کی شرط پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی شٹر ڈاون ہڑتال کس قدر کامیاب رہی؟ حیرت انگیز صورتحال

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن )وفاقی دارالحکومت میں شناختی کارڈ کی شرط پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف تاجروں کی شٹر ڈاون ہڑتال جزوی طور پر کامیاب ہوئی ہے۔ اسلام آباد کی تمام بڑی مارکیٹوں جزوی طور پر 70 فیصد بند رہیں سب سے زیادہ آبپارہ مارکیٹ کے تاجروں نے مکمل طور پر ہڑتال میں حصہ لیا جبکہ کراچی کمپنی۔ایف ٹین،جی ایٹ سپر مارکیٹ اور جناح سپر مارکیٹ کے

زیادہ تر مارکیٹوں بھی ہڑتال کی وجہ سے بند ہی رہی ہیں تاجر یونین نے دن بھر تمام مارکیٹوں کا دورہ کیا اور جہاں کہیں کوئی دکان کھلی نظر آئی اس کو بندکرنے کی تلقین کی گئی البتہ کسی بھی مارکیٹ میں کسی نا خوشگوار اور کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔پشاور سمیت صوبے بھر میں جزوی ہڑتال کے باعث تاجروں کو ایک دن میں 2ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا دو روزہ ہڑتال کے باعث تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔ ہڑتال کے باعث دکانوں میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی دو دن کی چھٹیاں دی گئی جس کے باعث ان کے گھر کے چولہے بھی بجھ گئے شہر میں بڑی بڑی گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہونے کے باعث دیہاڑ ی دار مزدور بھی متاثر ہو ئے تاجروں کے امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار بھی بند رہا سرکاری ذرائع کے مطابق تاجر روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں جس میں ہزاروں روپے کا منافع انہیں ہوتا ہے تاہم ایک روز ہڑتال کے باعث حکومت کے ساتھ ساتھ تاجروں کو بھی بری طور پرنقصان ہوا ہے۔ تاجروں کے کاروبار بند رہا ذرائع نے بتایا ہے کہ ہڑتال سے سب سے زیادہ متاثر تاجر خود ہو ئے ہیں پشاور میں تاجروں نے صبح کے اوقات کار میں ہڑتال کی جبکہ شام کے بعد شہر کے بیشتر مقامات پردکانیں کھل گئی

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر