”چائے کے ایک کپ“ نے 74 افراد کی جان لے لی، ٹرین حادثے میں زخمی ہونیوالے کے افسوسناک انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تیز گام حادثے میں زخمی ہونے والے ایک شخص نے آنکھوں دیکھا واقعہ سنا دیا، انہوں نے کہا کہ میں ان کی سامنے والی سیٹ پر بیٹھا تھا، انہوں نے پہلے سالن گرم کیا اور پھر چائے بنائی اس کے بعد سلنڈر نے آگ پکڑ لی اور وہ پھٹ گیا۔ اس زخمی شہری کی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہے جس میں اس نے یہ بیان دیا۔

واضح رہے کہ کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 73 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ریلوے ذرائع کے مطابق تیزگام ایکسپریس کراچی سے راولپنڈی جا رہی تھی جس میں سلنڈر پھٹنے سے تین بوگیوں میں آگ لگی۔آگ نے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مسافر ٹرین میں سلنڈر سے انڈا بوائل کررہے تھے کہ اچانک آگ بھڑ ک اْٹھی، متعدد افراد نے کود کر جان بچائی۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ڈی پی او رحیم یار خان جمیل احمد نے حادثے میں 65 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مطابق ٹرین کی اکانومی کلاس میں آگ لگی۔ تبلیغی جماعت کے لوگ اجتماع میں جارہے تھے۔شیخ رشید نے کہا کہ زیادہ ہلاکتیں مسافروں کے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں جبکہ شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کیاجارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ بوگیوں میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ مسافروں کے دو سلنڈر پھٹنے کے باعث بوگیوں میں آگ لگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں،مسافروں کی غلطی ہے۔ مسافر ٹرین میں سلنڈر کیسے لے کر پہنچے، اس کی تحقیقات کی جائے گی۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر