نوازشریف کا نام انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ای سی ایل سے ہٹانے کا معاملہ،وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو اہم ہدایات جاری کردیں

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ نوازشریف کا نام قانونی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ای سی ایل سے نکالا جائے، حکومت پر الزام نہیں آنا چاہیے کہ وہ نوازشریف کا علاج کروانے میں رکاوٹ ہے، طبی اورانسانی بنیاد پر نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بھی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ حکومت پر الزام نہیں آنا چاہیے کہ وہ نوازشریف کا علاج کروانے میں رکاوٹ ہے۔

وزارت کو چاہیے کہ قانون اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کرے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست ملی ہے۔وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو ریفرکیا ہے، شریف فیملی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے نیب کو بھی درخواست دی ہے۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لیے۔ یہ رپورٹ میڈیکل بورڈ سے ان کا مؤقف حاصل کرنے کیلئے دی گئی ہے۔ شریف میڈیکل سٹی لاہورسے نواز شریف کی صحت کی رپورٹ طلب کی گئی۔  دوسری جانب ذرائع شریف فیملی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اتوار کو قومی ایئرلائن پر لندن جائیں گے۔نوازشریف کے ہمراہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور جنید صفدر بھی جائیں گے۔ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شریف فیملی کی جانب سے لندن میں 2 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ہارلے اسٹریٹ کلینک میں سوموار کیلئے اپوائٹمنٹ لیا گیا ہے۔ اسی طرح شریف فیملی کی نیویارک میں بھی ڈاکٹرز سے بات ہورہی ہے۔ مزید برآں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ایک بار پھر ان کی طبیعت کو تشویشناک قرار دیدیا۔ڈاکٹر عدنان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سابق وزیر اعظم کے پلیٹس لٹس علاج کے باوجود مستحکم نہیں ہو رہے، پلیٹس لٹس مستحکم کرنے کیلئے دی جانے والی تھراپی بھی موثر ثابت نہیں ہو رہی۔ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تشخیص نہ ہونے سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو صحت کی صورتحال کے پیش نظر سپیشلائزڈ کیئر اور جدید علاج کی ضرورت ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر