اگلے آپشن کیلئے جے یو آئی ایف نے تیاریاں مکمل کرلیں،مولانا فضل الرحمان کی حکومت کو آخری مہلت، دھماکہ خیز اعلان کردیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کے ذریعے وزیراعظم عمران خان اور مذاکراتی کمیٹی کو پیغام دیا ہے اور دو آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیغام دیا ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں 3 ماہ میں نئے الیکشن کا اعلان کیا جائے،

حکومت ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرے۔ذرائع نے بتایا کہ اگلے آپشن کے طور پر جے یو آئی ایف نے تیاریاں بھی مکمل کرلی ہیں اور 12 ربیع الاول اتوار تک حکومت کے جواب کا انتظار کیا جائے گا جس کے بعد اگلی حکمت عملی پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی اگلی حکمت عملی میں ملک کی بڑی شاہراہوں کی بندش شامل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ تمام صوبائی اور وفاقی نشستوں سے استعفوں کا آپشن بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔باخبر ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے اپوزیشن کی اگلی حکمت عملی پر اپنی تیاریاں شروع کرلی ہیں اور سیکیورٹی اطلاعات کی بنیاد پر اپنا پلان مرتب کررہی ہے۔ دوسری جانب جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ کام لٹک گیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ وزیراعظم کے استعفے کے بغیر معاملہ حل ہو۔ انہوں نے حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چودھری پرویز الٰہی باوقار انسان ہیں اور ان سے ماضی میں بھی تعلق رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات با مقصد ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تو وزیراعظم کا استعفیٰ چاہتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ چودھری پرویز الٰہی اس کوشش میں ہیں کہ ہم وزیراعظم کے استعفے سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی کہتا ہے کہ براہ راست استعفیٰ اچھا نہیں لگتا ہے

تو ہم کہتے ہیں کہ انتخابات کرالیں۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ہمارا بنیادی مطالبہ وزیراعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخابات کا انعقاد ہے۔ جے یو آئیکے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ڈیڑھ سال ہو گیا لیکن پارلیمانی کمیٹی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔جے یو آئی (ف) کے سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ جب حکومت نے ہم سے رابطہ کیا تو اسی وقت ہم نے اپنا مؤقف واضح کردیا تھا اور اب بھی کہتے ہیں کہ استعفے اور انتخابات پر بات کرنی ہے تو ہم حاضر ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر