قومی خزانے میں 40ملین ڈالرز کاپراسرار اضافہ،ڈیل کی خبریں عروج پر،کیا پیسہ واقعی نوازشریف سے ”ڈیل“ کے بعد ملا؟ حیرت انگیز انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پلی بارگین کے ذریعے قومی خزانے میں پیسے جمع کروا دیے؟ اس سوال کو اس وقت تقویت ملی جب حفیظ شیخ، حماد اظہر اور دیگر حکومتی ٹیم نے قومی خزانے میں چالیس ملین ڈالرز کے اچانک اضافے سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ حکومتی معاشی ٹیم نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گزشتہ کچھ ماہ کے دوران سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور وفاقی وزیر حماد اظہر سے اس پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا کہ قومی خزانے

میں اچانک 40 ملین ڈالرز سے زائد کا جو اضافہ ہوا ہے، یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے؟ جس پر دونوں نے کوئی سوال نہ دیا اور سوال ہی ٹال گئے، ان کے اس ردعمل سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ کہیں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی ڈیل کا نتیجہ تو نہیں ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم کی معاشی ٹیم نے کہاہے کہ حکومت کے مؤثر اقدامات سے ملک کی معیشت کو سہارا ملا، ورلڈ بینک کے صدر اور آئی ایم ایف نے معاشی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے دوسری قسط کی سفارش کر دی ہے،برآمد کنندگان کو 200 ارب روپیہ قرضہ آسان قسطوں پر دیا جائے گا، ہم نے 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کیا،رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالیاتی خسارے اور تجارتی خسارے میں کمی،پانچ سال کے بعد برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، فاٹا کے انضمام کے بعداین ایف سی کے کردار پر بات چیت ہو رہی ہے، حکومت کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے،صوبائی حکومتوں کو قیمت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں، حکومت نئے نوٹ نہیں چھاپے گی،ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات ہوں گی،نیا عملہ اور ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی،پچھلے چار ماہ میں اسٹیٹ بینک سے ایک ٹکا بھی ادھار نہیں لیا گیا، یہ تمام چیزیں ملا کر دیکھیں تو ایک اچھی تصویر ابھر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان و معاشی ٹیم کے دیگر امان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کے آغاز پر بتایاکہ وزیراعظم اور معاشی ٹیم نے معیشت کو درست سمت دی۔ انہوں نے کہاکہ اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے ملک کا خزانہ بھرا ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہاکہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالیاتی خسارے اور تجارتی خسارے میں کمی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ پانچ سال کے بعد برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیمنٹ کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے،ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام ہے۔انہوں نے کہاکہ اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے،تاجروں کے ساتھ معاملہ مذاکرات سے حل ہوا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی کی تعریف کی،آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان نے تمام وعدے پورے کیے،اس عرصے میں 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا قرض واپس کیا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط جاری کرنے کی سفارش کی۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ فاٹا کے انضمام کے بعداین ایف سی کے کردار پر بات چیت ہو رہی ہے، فاٹا کیلئے 152 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شرح سود اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی طے کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ساڑھے چھ لاکھ ٹن گندم جاری کی گئی،صوبائی حکومتوں کو قیمت کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے نئے نوٹ نہ چھاپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نیا ہاؤسنگ پروگرام کیلئے صرف سود پر سبسڈی دے گی،جون سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات ہوں گی،نیا عملہ اور ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر میں اصلاحات ابھی ابتدائی سطح پر ہیں ابھی پوری جزیات طے نہیں ہوئی۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مسلسل چلتے ہیں،بہتر کارکردگی پر ہمیں مزید رعایت حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ سابق حکومت کی ایکسچینج ریٹ پالیسی سے 20 سے 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،ہماری برآمدات کمی ہوئی اور ملک میں ڈی انڈسٹریل لایزیشن ہوئی۔انہوں نے کہاکہ سابق حکومت کے اقدامات کے باعث عوام کو تکلیف ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت جب تک موجود ہے قیمتوں پر کنٹرول رہے گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر