جہانگیر ترین اور عمر ایوب کے مابین رسہ کشی کے باعث افسران کی من مانیاں، اعلیٰ افسران نے وزیراعظم کو بھی ماموں بنا دیا، انتہائی دھماکہ خیز انکشافات

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (آن لائن) وزارت پٹرولیم پر تسلط جمانے کے لئے جہانگیر ترین اور عمر ایوب کے مابین رسہ کشی کے نتیجہ میں اعلیٰ افسران کو من مرضی کرنے کیلئے کھلی چھٹی دے دی گئی ہے، اس بات کی عکاسی پارکو کے بورڈ ممبرز کے اجلاس میں افسران کی شرکت سے کی جانی ہے، چند روز قبل پٹرولیم ڈویژن سے وزارت فوڈ سکیورٹی میں ٹرانسفر ہونے والے ایڈیشنل سیکرٹری شیرافگن نے چارج چھوڑنے کے باوجود پارکو کے بورڈ ممبرز کے اجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی نمائندگی کے لئے دبئی میں موجود ہیں۔

ایڈیشنل سیکرٹری شیرافگن نے چارج چھوڑنے کے باوجود پارکواجلاس میں پٹرولیم ڈویژن کی نمائندگی کر کے ملک میں عدم ڈسپلن، کرپشن اور افسر شاہی کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ شیرافگن کئی سال پٹرولیم ڈویژن میں نوکری کرتے رہے ہیں ان پر بھاری کرپشن اور کرپٹ افسران اور کرپٹ مافیا کی پشت پناہی کرنے کا بھی الزام ہے پٹرولیم ڈویژن میں نوکری کر کے ان کا واحد مقصد بیرونی دورے کرنا تھا بالخصوص انٹرسٹیٹ گیس سروسز کمپنی کے نام پر شیرافگن نے بیرونی دوروں کا نیا ریکارڈ قائم کر رکھا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے وفاقی سیکرٹری نے آفس سنبھالتے ہی افسران کا ایک اپنا گروپ بنایا تھا جس میں ایڈیشنل سیکرٹری شیرافگن بھی شامل تھا یہ گروپ کرپٹ مافیا کا تحفظ کرتا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ اعلیٰ افسران بیرونی دوروں میں مہنگے سٹوروں سے شاپنگ کرتے ہیں اور قومی فنڈز کو لوٹتے ہیں اعلیٰ افسران کو بیرونی دوروں پر جانے سے قبل وزیراعظم سیکرٹریٹ سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے لیکن شیرافگن نے نہ تو متعلقہ حکام سے اجازت لی ہے اور نہ اجازت لینے کی ضرورت محسوس کی ہے کیونکہ پٹرولیم سیکرٹری انہیں اپنا اسسٹنٹ بنا کر ساتھ لئے گئے ہیں۔ پٹرولیم ڈویژن کے افسران ہمیشہ پٹرولیم وزارت کے زیرانتظام کمپنیوں کے نام پر بیرونی دورے کرتے ہیں اور کمپنیوں کے فنڈز سے مہنگے سٹوروں سے شاپنگ بھی کرتے ہیں اس دفعہ بھی یہ افسران وزیراعظم عمران خان کو بھی ماموں بنا کر بیرونی دوروں پر چلے گئے ہیں اور قومی خزانہ لوٹ رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن پر ذاتی تسلط جمانے کے لئے جہانگیر ترین اور عمر ایوب کے مابین سرد جنگ شدت اختیار کر گئی ہے جہانگیر ترین نے پٹرولیم سیکٹر پر تسلط جمانے کے لئے ندیم بابر کو مشیر بنایا اور تمام اختیارات اس کے حوالے کر دیئے، جہانگیر ترین نے بھی پہلے سرور خان کو وزیر پٹرولیم بنایا تھا جس کو عمران خان نے اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات پر وزارت سے علیحدہ کر دیا اب اس وزارت کا انچارج وزیر عمر ایوب ہے لیکن عمر ایوب کی پٹرولیم ڈویژن کے عام کلرک اور چپڑاسی بھی بات نہیں سنتے اس لئے عمر ایوب نے ڈویژن میں بیٹھنا بھی بند کر دیا ہے

اس سیکٹر پر سیاہ و سفید کا مالک ندیم بابر ہے جو جہانگیر ترین کا آدمی ہے اور اس کی بانسری پر ڈانس کرنا فرض سمجھتا ہے ان حالات کے باعث اسد عمر نے بھی پٹرولیم کا وزیر بننے سے انکار کر دیا تھا ان حالات میں ڈویژن میں تعینات اعلیٰ افسران کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے اور بھاری کرپشن، کک بیکس اور دیگر اداروں کے وسائل بے دریغ استعمال کرنے میں مصروف ہیں اور یہ افسران دونوں ہاتھ سے لوٹنے میں مصروف ہیں اس کی تازہ مثال ہے کہ وزارت فوڈ کا اعلیٰ افسر شیرافگن وزارت پٹرولیم کی نمائندگی کرنے کے لئے دبئی میں موجود ہے اور کسی نے بھی اس کی جواب طلبی نہیں کی ہے اس حوالے سے ندیم بابر سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی تاحال جواب نہیں دیا۔ عمر ایوب اور دیگر اعلیٰ افسران نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر