شعیب اختر کھلاڑی نہیں بن سکتا تھا‘ اس کے جسم میں کونسے چار بڑے نقائص تھے؟ معذوری کے باوجود اس نے پوری دنیا کو حیران کردیا، یہ معجزہ کیسے ہوا؟ راولپنڈی ایکسپریس کس کھیل میں مرتے مرتے بچے لیکن وہ باز نہ آیا؟سابق فاسٹ بائولر معذوری سے دنیا کے تیز رفتار بائولر کیسے بن گئے ؟ چونکا دینے والی تفصیلات

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)شاہد خاندان کا پہلا فرد تھا جو کرکٹ کھیلنے کیلئے گرائونڈ میں اترا‘ یہ ایک نیم دیہی خاندان تھا‘ ان کے والد ملک محمد اختر گوجر خان کے ایک پسماندہ گائوں جلیاری معظم شاہ کے رہنے والے تھے‘ وہ پڑھے لکھے تھے لہٰذا انہیں ریلوے میں جونیئر افسر کی ملازمت مل گئی اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی شفٹ ہوگئے۔۔۔ سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے ایک کالم’’خودکش ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ

ملک محمد اختر کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے دیئے لیکن بدقسمتی سے تین بیٹے ہڈیوں کی ایک مہلک بیماری کا شکار نکلے‘ اس بیماری کو طبی زبان میں ’’ہائپر ایکسٹینسو جوائنٹس‘‘ کہا جاتا ہے‘ اس بیماری میں مریض کے جوڑ پھیل جاتے ہیں اوراس کے جسمانی اعضاء بے ڈھنگے ہوجاتے ہیں‘ بڑے بیٹے شاہد کو اس بیماری کے باوجود سپورٹس کا شوق ہوا اور اس نے مورگاہ کے گرائونڈ میں فٹ بال اور کرکٹ کھیلنا شروع کردی‘ وہ بہت اچھا کھلاڑی تھا‘ اس نے اپنی ٹیم بھی بنا لی لیکن وہ رہنمائی کی کمی کے باعث آگے نہ بڑھ سکا‘ طاہر اخترخاندان کا دوسرا لڑکا تھا جس نے بڑے بھائی کی پیروی میں میدان میں قدم رکھا لیکن وہ بھی زیادہ دیرکھیل میں نہ جم سکا‘ اس نے ملازمت اختیار کر لی‘ تیسرا بھائی عبید اختر بھی کرکٹ کی طرف آیا لیکن وہ پڑھائی میں اچھا تھا چنانچہ اس نے کرکٹ کو پڑھائی پرقربان کردیا‘ شعیب سب سے چھوٹا بھائی تھا۔شعیب اختر کھلاڑی نہیں بن سکتا تھا‘ اس کے جسم میں چار بڑے نقائص تھے‘ اس کے پائوں ہموار تھے‘ ہموار پائوں کے لوگوں کو انگریزی میں ’’فلیٹ فٹڈ‘‘ کہا جاتا ہے ‘یہ لوگ بھاگنے‘ دوڑنے‘ دیوار پر چڑھنے اور پھلانگنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں لہٰذا آج تک دنیا میں کوئی ’’فلیٹ فٹڈ‘‘ شخص کھلاڑی نہیں بن سکا‘ شعیب کا دوسرا نقص‘‘ ہائپر ایکسٹینسو جوائنٹس‘‘ تھے‘ وہ اس بیماری کا انتہائی مریض تھا لہٰذا اس کے بازو اور اس کی

ٹانگیں لٹک جاتی تھیں ‘اس نے پانچ سال کی عمر میں چلنا شروع کیا تھا‘ اس کا تیسرا نقص دمہ تھا‘ اسے بچپن میں کالی کھانسی ہوئی اور یہ کھانسی اس کے پھیپھڑوں پر اپنا اثر چھوڑ گئی اور اس کا چوتھا نقص اس کا مزاج تھا‘ وہ اپنے رویوں میںنارمل نہیں تھا‘ وہ انتہا پر جا کر سوچتا تھالہٰذا اس کے والدین‘ اس کے بہن بھائیوں اور اس کے دوست احباب اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں تھے‘

وہ پڑھائی میں بھی اچھا نہیں تھا لیکن پھر ایک عجیب معجزہ ہوا‘ اس بچے نے ایک دن بیٹ پکڑا اور ساری ٹیم کو حیران کردیا، وہ قدرتی طور پرکرکٹر نکلا، اس میں بائولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ تینوں خوبیاں موجود تھیں چنانچہاس نے ایک برس میں ٹیم میں اپنا مقام پیدا کرلیا‘ وہ سب سے پہلے اٹک آئل کمپنی آفیسر ٹیم کا حصہ بنا، وہاں سے وہ جی ایچ کیو کی ٹیم میں گیا اور وہاں سے وہ راولپنڈی ڈویژنل کرکٹ ایسوسی ایشن تک جا پہنچا،

1994-95ء میں کرکٹ کے لیجنڈ کھلاڑی ماجد خان نے اسے اٹھایا اور اسے قومی سطح تک متعارف کرا دیا۔ 1995-96ء میں نیوزی لینڈ کی ٹیم راولپنڈی آئی، شعیب اختر راولپنڈی کی طرف سے میدان میں اترا اور اس نے نیوزی لینڈ کے دس کھلاڑی آئوٹ کردیئے، وہ گولی کی طرح تیز بال کراتا تھا، نیوزی لینڈ ٹیم کا منیجر جان رائٹ تھا، جان نے اس نوجوان کو دیکھا تو پیش گوئی کی’’یہ لڑکا بہت جلد پوری دنیا میں مشہور ہو جائے گا‘‘

جان رائٹ کی اس پیش گوئی نے شعیب کے خلاف سازشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیا، یہاں سے شعیب اختر کی کامیابیوں او ر ناکامیوں کا سلسلہ بیک وقت شروع ہوتا ہے۔شعیب اختر کا کھلاڑی بننا اور پھر کرکٹ کی دنیا میں سب سے تیز بال پھینکنے کا اعزاز حاصل کرنا معجزہ تھا، یہ کھیلوں کی تاریخ کا پہلا کھلاڑی تھا جس کے پائوں بھی ہموار تھے اور جو ’’ہائپر ایکسٹینسو جوائنٹس‘‘ کا بھی

مریض تھا لیکن اس معذوری کے باوجود اس نے پوری دنیا کو حیران کردیا، یہ معجزہ کیسے ہوا؟ یہ بات بھی کسی معجزے سے کم نہیں‘ اس معجزے کی بنیاد اس کا رویہ تھا، شعیب اختر بنیادی طور پر انتہا پسند شخص ہے، اس کے مزاج میں خود کشی کی حد تک ایڈونچر پایا جاتا ہے‘وہ چیلنج قبول کرتا ہے اور اس چیلنج کو بعد ازاں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیتا ہے، اس نے آٹھ نو سال کی عمر میں موٹر سائیکل چلانا

سیکھی اور راولپنڈی میں موٹر سائیکل کے کرتب شروع کردیئے، وہ کئی بار اس کھیل میں مرتے مرتے بچا لیکن وہ باز نہ آیا‘ڈاکٹروں نے اسے بھاگنے سے منع کیا لیکن اس نے فاسٹ بالر بننے کا اعلان کردیا، ڈاکٹروں نے اسے جوڑوں پر دبائو ڈالنے سے روکا لیکن اس نے دنیا کی تیز ترین بال پھینکنے کا فیصلہ کرلیا، میڈیکل سائنس شعیب کی اس شدت کو حماقت سمجھتی ہے لیکن وقت نے ثابت کیا اس کی یہی شدت پسندی

اس کی کامیابی کی واحد وجہ بنی‘اس نے اپنی شدت پسندی کے ذریعے اپنی پیدائشی معذوری اوراپنی بیماری کو شکست دے دی اور وہ کھلاڑیوں کی صفیں چیرتا ہوا وہاں جا پہنچا جہاں عزت اور شہرت اس کے پائوں میں پڑی تھی۔مجھ سے شعیب اختر کا تعارف ہمارے ایک سینئر صحافی نے کرایا تھا‘ اس سینئر صحافی کو لوگ ’’استاد بوتل‘‘ کہتے ہیں‘ استاد بظاہر ایک مذہبی شخصیت ہیں ‘

ان کی تحریروں میں بھی ایمان اور اسلام کا تذکرہ ملتا ہے لیکن بدقسمتی سے ان کی ذاتی زندگی ان کی تحریروںسے یکسر مختلف ہے‘ وہ قول اور فعل کے شدید بحران کا شکار ہیں‘ وہ چوبیس گھنٹے کے حاسد ہیں اور حسد میں وہ بعض اوقات کفر تک چلے جاتے ہیں‘ ہمارے ایک دوست نے استاد بوتل کے بارے میں بڑا تاریخی فقرہ کہا تھا‘ اس نے کہا تھا ’’اگر استاد بوتل کے منہ سے الکوحل کی بو نہ آتی تو وہ پکے ولی ہوتے‘‘

بہر حال شعیب اختر سے میرا تعارف استاد بوتل نے کرایا تھا‘ میں نے استاد کے کہنے پر شعیب کا کھیل دیکھنا شروع کیا اور میں اس کے سحر میں گرفتارہوتا چلا گیا‘ شعیب کے دو بھائی میرے دوست ہیں جبکہ اس کی والدہ میں مجھے اپنی ماں کی جھلک نظر آتی ہے‘ وہ محبت‘ شفقت اور رواداری کی چلتی پھرتی تصویر ہیں‘ میرا خیال ہے شعیب کو اپنی ماں کی دعا ہے‘ یہ اس کی ماں کی دعائوں کا نتیجہ ہے

وہ طبی لحاظ سے ان فٹ ہونے کے باوجود دنیا کا تیز ترین بائولر بھی بنا اور اس نے میڈیکل سائنس اور سپورٹس کوبھی حیران کردیا۔ شعیب اختر 1997ء میں قومی ٹیم میں منتخب ہوا، اس وقت کے چرسی کپتان اسے ٹیم میں نہیں لینا چاہتے تھے، اس کی وجہ شعیب کا رویہ تھا، شعیب فاصلے پر رہنے والا اکھڑ مزاج نوجوان تھا جبکہ کپتان پاکستانی مزاج کے شخص تھے وہ کھلاڑیوں سے جی حضوری اور تابعداری کے

خواہاں تھے لہٰذا شعیب اختر ان کے کرائی ٹیریا پر پورا نہیں اترتا تھا لیکن ماجد خان اور سلیم الطاف کی مہربانی سے شعیب اختر کو سلیکٹ کر لیا گیا‘ اس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کھیلا اور اس میچ میں اس نے دو کھلاڑی آئوٹ کردیئے۔ یہاں سے شعیب کا انٹرنیشنل کیریئر شروع ہوگیا۔شعیب اختر کا مزاج اور جسم دو بڑے مسائل کا شکار ہیں۔ شعیب مزاج کے لحاظ سے خود کش ہے، اس نے نیوزی لینڈ میں

دس ہزار میٹر کی بلندی سے چھلانگ لگا دی تھی اور وہ نیا گرافال سے تیرتا ہوا نیچے آیااور یہ حرکت کوئی نارمل شخص نہیں کرسکتا‘وہ ایڈونچر کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا، یہ شدت بنیادی طور پر اس کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگر آپ اسے بھاگتے ہوئے اور بال پھینکتے ہوئے دیکھیں آپ کو اس لمحے اس کے چہرے پرایک عجیب طرح کی وحشت‘ غصہ اور تفاخر دکھائی دے گا‘اس وقت آپ کو

اس کے انگ انگ میں ایک ’’ابنارملٹی‘‘ نظر آئے گی‘ یہ وہ ابنارملٹی ‘ یہ وہ وحشت اور یہ وہ غصہ ہے جس کی وجہ سے وہ سو میل کی رفتار سے بال پھینکتا ہے،اگر شعیب میں یہ غصہ اور یہ شدت نہ ہوتی تو وہ کبھی اپنے ہموار پائوں اور ’’ہائپر ایکسٹینسو جوائنٹس‘‘ کے ساتھ دنیا کا صف اول کا کھلاڑی نہ بن پاتا‘ وہ کبھی اس مقام تک نہ پہنچتا‘ شعیب کو ہر میچ میں اپنے حوصلے‘ فیصلے اور جرأت کا تاوان ادا کرنا پڑتا ہے‘

ہر میچ میںاس کا جسم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اوراس کے نتیجے میں وہ ان فٹ ہو جاتا ہے۔ یہ ’’ان فٹ نس‘‘ اس کی شدت میں اضافہ کر دیتی ہے اور وہ اپنے قرب و جوار سے الجھنا شروع کردیتا ہے، یہ الجھن اس کے کیریئر کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔وہ یہ رکاوٹ بھی دور کرلیتا تھا لیکن پھر استاد بوتل جیسے لوگ آڑے آگئے‘ شعیب کی زندگی کی سب سے بڑی بدقسمتی استاد بوتل جیسے لوگ ہیں‘

ان لوگوں نے آج تک اسے اور اس کے مسئلوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی‘ شعیب نے آج تک پاکستان کو بہت کچھ دیا لیکن ہم پاکستانیوں نے اسے افسوس اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیا۔شعیب اختر ان حالات تک کیسے پہنچا اور کن کن لوگوں نے اس کے خلاف کیا کچھ کیایہ میں آپ کو کل بتائوں گا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر