سندھ حکومت کا جمعہ کے دن لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان، نماز عیدالفطر کے اجتماعات کی بھی اجازت دیدی

سوشل میڈیا‎‎

کراچی(آن لائن) سندھ حکومت کا جمعہ کے دن لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان، سندھ حکومت نے صوبے میں جمعہ کے دن لاک ڈاؤن نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جمعتہ الوداع کے اجتماعات کی اجازت دیدی ہے۔ صوبائی حکومت نے نماز عیدالفطر کے اجتماعات کی بھی اجازت دیدی ہے۔ اس کے ساتھ مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھانے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں کے اوقات بڑھانے کے لیے تیار ہیں،

وفاقی حکومت فیصلہ کرلے ہم مارکیٹوں کا وقت بڑھا دیں گے۔ ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا وقت بڑھانے سے متعلق فیصلہ آیا تو قبول ہے، عوام کرونا سے بچاؤ کے ساتھ ریلیف بھی دینا چاہتے ہیں، چیف سیکریٹری کے ساتھ ایک میٹنگ ہوچکی ہے دوسری میٹنگ بھی ہوگی، میٹنگ میں جو بھی فیصلہ آئے گا اس پر عملدر آمد کیا جائے گا۔دوسری جانب سندھ میں ایک دن کے دوران کورونا کے سب سے زیادہ 1017 مریض سامنے ہیں جب کہ اس وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 316 ہوگئی ہے۔سندھ میں کورونا وائرس کی صورتحال سے متعلق اپنے وڈیو بیان میں مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6164 نئے ٹیسٹ کیے گئے، سندھ میں اب تک ایک لاکھ 37 ہزار 540 ٹیسٹ کیے گئے ہیں،24 گھنٹوں کے دوران 1017 نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو اب تک کا ریکارڈ ہے، اب تک صوبے بھر میں 18 ہزار 964 کیسز سامنے آئے۔1017 مریضوں میں سے کراچی میں 813 کیسز ظاہر ہوئے ہیں، آج 904 مزید مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھروں کو چلے گئے، جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 5 ہزار 645 ہوگئی ہے۔وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث 24 گھنٹوں میں مزید 17 افراد انتقال کرگئے، جس کے بعد سندھ میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 316 ہوگئی ہے، اس کے علاوہ 127 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، جن میں سے 32 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے بھی فیصلہ آتا ہے تو اس پر عمل کریں گیے، مارکیٹس کا وقت بڑھانے سے متعلق عدالت بھی فیصلہ کرلے تو ٹھیک ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کرونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا، ہمارے بھی کچھ تحفظات ہیں، عید اجتماعات کے لیے ایس او پیز پر عملدر آمد کرنا ہوگا، ہمارے اقدامات مخالفین کو ہضم نہٰں ہورہے ہیں، خود لاک ڈاؤن کی تعریف کرتے رہے اب مخالفت کررہے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر