’’ترک صدر کی اپوزیشن جماعتوں کے اثاثے ہتھیانے کی منصوبہ بندی‘‘ حیرت انگیز دعویٰ کر دیا گیا

سوشل میڈیا‎‎

انقرہ (این این آئی)تْرکی کی حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (آق) ترک صدر رجب طیب اردوآن کی حکومت کی مخالفت کرنے والی حزب اختلاف کی جماعتوں کے خلاف کے خلاف ایک نئے انتقامی حربے کے تحت ملک کے ایک پرانے بینک میں موجود اثاثے ضبط کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کی جماعت کی طرف سے اپوزیشن کو دبائو میں لانے کا یہ نیا حربہ ہے

جس پر ترکی کے ذرائع ابلاغ اور سیاسی جماعتوں کی طر ف سے کڑی تنقید سامنے آئی ہے۔ایردوآن کی جماعت ایک نیا بل تیار کررہی ہے جس میں حزب اختلاف کی ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے ایش بینک میں موجود اثاثے ضبط کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔۔ایش بنک کا شمار ترکی کے پرانے بنکوں میں ہوتا ہے اور اس بنک کے ساتھ اپوزیشن جماعت کے 28 اعشاریہ 9 فی صد حصص کی شراکت ہے۔حکمران جماعت اپوزیشن کے اثاثے ہتھیانے کے لیے نام نہاد قوانین کا سہارا لینے کی کوشش کررہی ہے۔ اپوزیشن کی رقوم ہتھیانے کیلیے تیار کردہ بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا جہاں اس وقت صدر ایردوآن کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔معاشی امور کے ماہر اور ریپبلکن پیپلز پارٹی کے قریبی رہ نما ترک پروفیسر یلچن کرہ تبہ نے کہا کہ قانونی نقطہ نظر سے حکمران جماعت اس بینک میں موجود حزب اختلاف کے حصص کو سرکاری خزانے میں منتقل نہیں کرسکتی ہے۔ بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اپوزیشن کیچار ارکان موجود ہیں۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکمران جماعت قانون کے تابع ہوگی یا اس منصوبے کو منظور کرنے کے لیے وہ طاقت کا استعمال کرے گی۔انقرہ یونیورسٹی میں سیاسیات کی فیکلٹی کے لیکچرر نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ ایش بینک میں اپوزیشن کے حصص سے حزب اختلاف کی جماعت کے تمام منافع دو تنظیموں (ترکی زبان) اور (ترک تاریخی) کو جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 50 کی دہائی میں اور 1980 میں ترکی میں فوجی بغاوت کے بعد بھی اس پارٹی کے حصص پر قبضہ کرنے کے فیصلے جاری کیے گئے تھے لیکن عدالتوں نے انہیں منسوخ کردیا اور دوبارہ حصص ریپبلکن پیپلز پارٹی کو واپس کردیئے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر