اگر ملک پر اس طرح کے کم ظرف اور گھٹیا سوچ رکھنے والے حکمران مسلط رہیں  گے تو ملک نہیں چلے گا ، ٹائیگر فورس کو ٹڈ ی دل پکڑ نے پر لگا دیا جائے، بجٹ سے قبل اپوزیشن لیڈر کی گرفتاری کا منصوبہ بنایا گیا ،ن لیگ حکومت پر برس پڑی

سوشل میڈیا‎‎

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) نے کہا ہے کہ نیب شہباز شریف سے کیمروں کے سامنے تفتیش کرے تاکہ عوام کو اصل حقائق معلوم ہو سکیں ،نیب مکان نمبر دو لین نمبر ایک زمان پارک میں تعمیر ہونے والے گھر کی تحقیقات کرے اس کا خرچہ کس نے اٹھایا؟حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کر رہی ہے ، نیب کھوکھلا ٹارزن ہے اور یہ چلنے والا نہیں ، کابینہ کے اجلاس میں دو دو گھنٹے صرف نواز شریف کی چائے کی پیالی پر بحث ہوتی ہے اگر ملک پر اس طرح کے کم ظرف اور گھٹیا سوچ رکھنے والے حکمران مسلط رہیں گے تو ملک نہیں چلے گا ، ٹائیگر فورس کو ٹڈ ی دل پکڑ کر 15روپے فی کلو فروخت کرنے یا ڈھول بجانے پر لگا دیا جائے ،

وارنٹ گرفتاری حتمی رائے ہوتی ہے لیکن شہباز شریف کے معاملے میں وارنٹ گرفتاری28مئی کو جاری ہوتا ہے اور انہیں دھوکے سے تفتیش کیلئے 2جون کو طلب کیا جارہا ہے ، بجٹ کے موقع پر اپوزیشن کو غیر موثر کرنے کیلئے قائد حزب اختلاف کی گرفتاری کا منصوبہ بنایا گیا ۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ(ن) کے سینئر مرکزی نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور عظمیٰ بخاری کے ہمراہ ماڈل ٹائون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہبازشریف 20ماہ سے نیب کو دس سے پندرہ مرتبہ جواب جمع کروا چکے ہیں ،70دن نیب کے ریمانڈ اور بعد ازاںجوڈیشل پر رہے لیکن نیب اس عرصے میں کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا ۔56کمپنیوں کی بڑی تشہیر ہوئی لیکن اس کا کیا ہوا ،آشیانہ ہائوسنگ سکیم، صاف پانی سکیم کا کیا بنا؟۔جب نیب کو کچھ نہ ملے تو اس کے پاس آخری حربہ آمدن سے زائد اثاثہ جات ، منی لانڈرنگ اور بے نامی رہ جاتے ہیں ۔آج ثابت ہوگیا جو دس سال پنجاب کا وزیر اعلی رہا اس پر نیب سرکاری خزانے سے ایک پائی کی خرد برد کا الزام نہیں لگا سکا ،شہبازشریف نے سب کچھ نیب کو دیدیا ہے اور جو بھی کچھ مانگیں گے وہ بھی دیدیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نیب کیمرے لگا کر تفتیش کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آئیں،جو عوام کی خدمت کرتاہے اس کی تفتیش بھی عوام کے سامنے ہونی چاہیے ،جب ریاست کے ادارے بد نیتی پر اتر آئیں تو تو ملک کھوکھلا ہو جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ نیب چیئرمین بتائیں انہوں نے 28مئی کو شہباز شریف کے گرفتاری کے وارنٹ کیوں نکالے جبکہ شہباز شریف کو تفتیش کے لئے 2جون کو طلب کیا جارہا ہے ،یہ بد نیتی نہیں تو اور کیا ہے ، کیا عوام نیب کا احتساب نہیں کر سکتے ، کیا یہ بدمعاشی کااڈہ ہے ،کیا نیب کا کام ہر کسی پر الزام تراشی اور ہتک کرنا رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں چیئرمین نیب کو بتاتا ہوں وہ مکان نمبر دو لین نمبر ایک زمان پارک پتہ کریں یہ کس کا اثاثہ ہے اور اسے کس نے خرچہ کر کے تعمیر کیا ہے ، چیئرمین نیب وہاں بھی ٹیم بھیجیں ۔انہوں نے کہا کہ میں شوگر سکینڈل ،گندم اور ادویات سکینڈل کا ثبوت دے رہاہوں ،فارن فنڈنگ کیس چھ سال سے التواء میں ہے ، بتایا جائے 13.25فیصد پالیسی ریٹ کس کے کہنے پر کیا گیا اور جو قرضے ہم سوا پانچ فیصد شرح سے لے سکتے تھے وہ 13.25فیصد پر کیوں لئے گئے ، اس سے کس کو فائدہ ہوا ہے ، اس کے ذریعے معیشت کو ڈبو دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ احتساب عوام کے سامنے ہو ،نیب چیئرمین بتائیں کیا

وہ حکومت سے ہدایات نہیں لیتے؟، حکومت کے وزیر اور ترجمان خود کہتے ہیں کہ نیب ہمارے کہنے پر کارروائی کرتا ہے ، وزیر نیب کی گرفتاریوں کے حوالے سے پیشگوئیاں کرتے ہیں،نیب اگر اس قسم کا ٹارزن ہے تو کھوکھلا ٹارزن ہے اور یہ ٹارزن چلنے والا نہیں ہے ۔ ملک اور عوام کو بے پناہ پریشانیوں کاسامنا ہے لیکن کابینہ کے اجلاس میں دو دو گھنٹے صرف نواز شریف کی چائے کی پیالی پر بحث ہوتی ہے ۔نیب کے چیئرمین حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں ا ور اس کے ذریعے جمہوریت کی جڑی کھوکھلی کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے ٹیسٹوں کی رپورٹس حکومت کے پاس موجود ہیں ، کیا مریض چائے نہیں پی سکتا اور چہل قدمی نہیں کر سکتا ، جو شخص سٹریچر پر ہو یا آئی سی یو میں پڑا ہو صرف وہی مریض نہیں ہوتا ،اگر ملکی مسائل کا حل نواز شریف کو واپس لا کر جیل میں ڈالنا ہے اور ہمیں جیل میں ڈالنا ہے تو ہم کل ہی

جیلوں میں جانے کو تیار ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ میں خود شوگر کمیشن کے سامنے پیش ہوا تھا،347صفحات کی رپورٹ میں چینی کی قیمت بڑھنے اور اس کے ذمہ داروں کے تعین کے علاوہ دنیا کی ہر چیز موجود ہے ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس جج کی ویڈیو تھی سب نے دیکھ لیا وہ کس طرح بلیک ہوا ، چیئرمین نیب بھی حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے تجویز ہے کہ ٹائیگر فورس کو ٹڈی دل پکڑ کر 15روپے فی کلو فروخت کرنے کے کام پر لگا دیا جائے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ آج پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت آشکار ہو گئی ہے کہ نیب حکومت کے فرمائشی پروگرام کو پورا کرتا ہے۔ شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری 28 مئی کو

جاری کئے گئے لیکن انہیں دھوکے سے 2جون کو طلب کیا جاتا ہے ، نیب کا ادارہ انتقامی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ، حکومت چاہتی ہے کہ بجٹ کے موقع پر قائد حزب اختلاف کی موثر آواز موجود نہ ہو لیکن ہم بجٹ اجلاس میں حکومت کے سامنے کھڑے ہوں گے اور اس کی بجٹ تجاویز کو دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے پہلے ہی معیشت تباہ ہو چکی تھی ،زراعت اور صنعت کورونا سے پہلے ہی تباہ ہو چکے تھے ، اب سی پیک پر بھی کام رک گیا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کو پارٹ ٹائم کر کے اپنی تشہیر کے کام پر مامور نہ کیا جاتا ، حکمرانوں نے ملک کے انتظامی ڈھانچے کی تباہی کر دیاہے،کورونا کی وجہ سے ملک میں

ایمرجنسی کی صورتحال ہے لیکن حکومت کو اپوزیشن کو پکڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ،ٹڈی دل کی وجہ سے کپاس ، آم سمیت دیگر فصلیں تباہ ہو چکی ہیں ،لیکن حکومت کسانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور انہیں ریلیف دینے کی بجائے شہباز شریف کے پیچھے پڑی ہے۔پچاس رکنی اور ستر کے قریب ترجمان ہیں لیکن کوئی بھی طیارے حادثے کے متاثرین کے دکھ میں شریک نہیں ہوا ، یہ حکومت کرپشن کرپشن کا شور مچار کر خود تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن کر رہی ہے ، قوم کی جیبوں پر چینی کی مد مین تین سو ارب روپے کا ڈاکہ ڈالا گیا لیکن اسے کوئی نہیں پوچھ رہا ، ایجنسیوں کی رپورٹ پر وزیر کو ہٹایا گیا لیکن اس سے کچھ نہیں پوچھا گیا ،جتنا ٹیکس میں دیتا ہوں اتنا ہی عمران خان دیتا ہے لیکن میں مشکل سے ایک کنال کے کرائے کے گھر میں رہ کر اخراجات پورے کرتا ہوںاور عمران خان تین سو کنال کے بنی گالہ میں رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران ٹائیگر فورس کو ڈھول بجانے کی ذمہ داری سونپ دیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر