کورونا کے خلاف فرنٹ لائن سولجرز اور عوام کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے ،وزیراعظم کی کنفیوژن اب تک دور ہو جانی چاہیے تھی، شہباز شریف نے تشویش کا اظہار کر دیا

سوشل میڈیا‎‎

لاہور( این این آئی )پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہبازشریف نے کورونا سے اموات اور متاثرین کی تعداد میں اضافے پر اظہار تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اموات کی شرح اور متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر حالات کا جائزہ لیں اورمشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلایا جائے، کورونا کے خلاف فرنٹ لائن سولجرز اور عوام کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے ،کوونا کی تباہ کاری وزیراعظم اور حکومت کے دعوئوں کو غلط ثابت کرچکی

ہے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہا کہ اصلاح احوال کے لئے نظر ثانی کی جائے اورحالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے وزیراعظم صاحب کی کنفیوژن اب تک دور ہوجانی چاہیے تھی، گھروں میں قرنطینہ 1040ڈاکٹرز ، دیگر طبی عملہ اورہسپتالوں میں زیرعلاج 200کے قریب فرنٹ لائن ورکرزکی صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں کورونا سے متاثرہ250ڈاکٹرز اور 98نرسوں سمیت 553ہیلتھ کیئر ورکرزسے یکجہتی کرتے ہیں، متاثرہ 100 خواتین ڈاکٹرز کے جذبے کو سراہتے ہیں ۔ا نہوںنے کہا کہ ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم فراہمی اور علاج معالجے کے لئے درربدر کی ٹھوکریں کھا نے والے عوام کی شکایات کا ازلہ کیاجائے ،کورونا وبامیں اضافے کا الزام عوام پر نہ لگایا جائے، انہیں تیار کیاجائے، آگاہی دی جائے،کورونا وبا ء کے پھیلائواور لاک ڈائون میں نرمی کے نتائج کا دوبارہ جائزہ لیا جائے ،اللہ تعالی کورونا متاثرین کو صحت کاملہ اور مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر