100 سے زیادہ ممبران اسمبلی میں کورونا وائرس کی تصدیق، افغانستان کے بعد پاکستان میں وبائی بیماری کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، عالمی ادارہ صحت نے تشویشناک بات کر دی

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سیاستدانوں اور ممبران پارلیمنٹ میں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس پھیل رہا ہے، حالیہ دنوں میں تقریبا 100 پارلیمنٹیرینز کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ 342 ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک تہائی ممبران کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

جب اناڈولو ایجنسی نے فواد چوہدری سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنے کہے گئے الفاظ کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ورچوئل سیشن کا کہا لیکن حزب اختلاف نے کبھی اتفاق نہیں کیا، اب ن لیگ کی تقریباً اعلیٰ قیادت میں کورونا مثبت آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر داخلہ اور سینئر لیگی رہنما احسن اقبال سمیت پانچ سینئر ممبران اسمبلی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ احسن اقبال کے علاوہ فرخ حبیب، سینیٹر ثناء جمالی، ممبر قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی ا ور ایم کیو ایم کے رکن اسامہ قادری میں کورونا وائرس مثبت آیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف میں بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد اور خواجہ سلمان رفیق میں بھی کورونا وائرس مثبت آیا ہے۔ اس طرح اور بہت سے ممبر پارلیمنٹ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے افغانستان کے بعد پاکستان کو اس وبائی مرض کا سب سے زیادہ خطرہ قرار دیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے حکومت کو خط لکھا گیا ہے جس میں کورونا کی بڑھتی ہوئی وباء کو روکنے کے لئے دو ہفتوں کے سخت لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاکہ انہوں نے ملک کی عوام کے بہترین مفاد کے لئے خود مختار اور بہترین فیصلے کئے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر