ہر حکومت پچھلی حکومت کے قرضے واپس کرتی ہے،عمران خان قرضوں سے متعلق عوام کو مِس گائیڈکر رہے ہیں، اسحاق ڈار نے حکومت کو کھری کھری سنا دیں

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(آن لائن) سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان قرضوں سے متعلق عوام کو ’مِس گائیڈ‘کر رہے ہیں، جو بھی حکومت آتی ہے پچھلی حکومت کے قرضے واپس کرتی ہے، پیپلزپارٹی نے مشرف اور ہم نے پیپلزپارٹی دور کے قرضے واپس کیے، ن لیگ نے مشرف دور کے 500ملین ڈالر بانڈزکی بھی ادائیگی کی، موجودہ حکومت نے10ہزار200ارب قرضوں میں اضافہ کیا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ

آپ اسمبلی کے فلور پرفرمایا کہ کوئی قوم ویژن کے بغیر نہیں چل سکتی،یا ٹھہر سکتی، پھرآپ کی توویژن ہے ہی نہیں۔یہ ویژن کے بغیر نااہل حکومت ہے۔مس مینجمنٹ آسمان پر ہے، کورونا ازم کے آپ کے سامنے ہے۔آپ نے ریاست مدینہ کے بارے میں بتایا کہ انسانیت بنیادی چیز تھی، لیکن انسانیت میں آپ نے اخلاق تو تباہ کردیا ہے۔آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر اخلاق تباہ کیا، آپ نے نوجوان نسل کو تباہ کردیا جو پاکستان کا مستقبل ہے، اسی طرح آپ نے کہا کہ میرٹ ہونا چاہیے، آپ کی کابینہ میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ساری دنیا کو میرٹ کا پتا ہے۔بات وہ کریں جو حق سچ کی ہو۔ بدقسمتی ہے کہ آپ نے زیادہ تر اعدوشمار غلط بتائے، ملک کی معاشی تباہی ہوچکی ہے، کورونا نے تو صرف ان زخموں پر نمک چھڑکا ہے۔ہم تو پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ کورونا سے پہلے ہی تباہی ہوچکی تھی،اب رپورٹ بھی آچکی ہے۔ پاکستان کی معاشی، سماجی، خارجہ پالیسی اور ہیلتھ پالیسی ناکام ہوچکی ہے، یہ پالیسیاں کامیاب نہیں ہیں، ان پر فوری نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ دنیا میں پاکستان کے منفی رویے کی وجہ سے بھارت نے آرٹیکل 370کو تبدیل کرنے کی جرات کی ہے، یہ کہتے ہیں اگر مولانا فضل الرحمان دھرنا نہ دیتے تو ہم نے کشمیر ایشو کو ریورس کردینا تھا، لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ جو انہوں نے 126دن کا دھرنا دیا تھا۔ عمران خان نے معیشت پر بات کی جب وہ آئے معیشت کا برا حال تھا، لیکن عالمی اداروں کے پاس ساری تفصیل موجود

ہے۔ کسی بھی حکومت کی ملنے والی معیشت کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئی حکومت کو بہترین معیشت ملی۔5.8گروتھ ریٹ، کم ترین مہنگائی، ٹیکس گروتھ ڈبل تھی، زبردست اعشاریے تھے، دنیا پاکستان کے حوالے پیشگوئی کررہی تھی کہ پاکستان جی 20میں شامل ہوجائے گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ عمران خان نے بلند ترین افراط زر کے حوالے سے غلط بیانی کی۔ کھانے پینے کی اشیاء بہت سستی تھی۔ہمارے 5سالوں کی اوسطاً افراط زر

تھی، مہنگائی کی شرح 1فیصد تھی۔ غربت سے ایک کروڑ 30لاکھ لوگوں کو نکالا تھا لیکن انہوں نے دوبارہ ایک کروڑ 30لاکھ لوگوں کو غربت میں جھونک دیا ہے، بے روزگاری کی شرح میں 40فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔یہ سارے میرے نمبرز نہیں ہیں یہ سارے سرکاری اعدادوشمار ہیں۔پاکستان میں پی ٹی آئی حکومت نے بے تحاشا قرضے بڑھائے، حکومت نے جو قرضے لیے اور ریاست ان قرضوں کو واپس کرتے ہیں، 1900ارب اسٹیٹ بینک میں موجود تھے، 24ہزار 900ارب قرضے تھے،

پی ٹی آئی کی حکومت 35ہزار پر لے گئی ہے، یہ کہتے ہیں دو حکومتوں نے 30ہزار رب قرض لیے، لیکن آپ نے 2سالوں میں اس سے زیادہ اضافہ کردیا ہے۔نیازی صاحب کو آپ کو مس گائیڈ کیا جاتا ہے۔آپ کی معاشی ٹیم کہتی کہ ہم نے 5ہزار ارب قرضے واپس کیے؟ کونسی حکومت قرضے واپس نہیں کرتی؟کیا پیپلزپارٹی کی حکومت نے مشرف اور ن لیگ نے پیپلزپارٹی دور کے قرضے واپس کیے۔ ہم نے مشرف دور کا بانڈ بھی 500ملین ڈالر کا ادا کیا ہے۔آپ کی حکومت نے 10ہزار 200کا قرضوں میں اضافہ کیا، مطلب حکومت نے15ہزار کے نئے قرضے لیے ہیں۔قرضوں کے حوالے سے پی آتی آئی کی پاکستان کی تاریخ میں تباہ کن کارکردگی ہے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

    اوپر