بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غور مکرر آرڈیننس 2020 سمیت کئی آرڈیننس پیش، یہ بل اتفاق رائے سے پاس ہونا چاہئے، بلاول بھٹو نے بھی حمایت کر دی

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غور مکرر آرڈیننس 2020 سمیت کئی آرڈیننس پیش کردئے گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2018 آئی سی ٹی معذور افراد کے حقوق کا بل سمیت چار بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو ارسال کردیئے گئے۔ پیر کوقومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکراسد قیصر کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس میں حکومت کی طرف سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف نظرثانی و غور مکرر آرڈیننس 2020 ایوان کے سامنے رکھا گیا،اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ یہ آرڈیننس

کلبھوشن کو فائدہ دینے کیلئے لایا گیا ہے،گزشتہ ہفتے آرڈیننس ایجنڈے میں شامل ہونے کے باوجود پیش نہیں ہو سکا تھا، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کمپنیات ترمیمی آرڈیننس 2020، کارپوریٹ ری سٹرکچرنگ کمپنیز آرڈیننس 2020، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2020 نشہ آور آشیا کی روک تھام ترمیمی بل 2020، شراکت داری محدود ذمہ داری ترمیمی بل 2020، انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020۔ مجموعہ ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2020 قومی اسمبلی میں پیش کئے، اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل 2018 آئی سی ٹی معذور افراد کے حقوق کا بل، فن فساحت و نقشہ کشی ترمیمی بل 2020اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن بل 2020 مشترکہ اجلاس کو بھجوادیئے، یہ بلز قومی اسمبلی سے منظور ہوئے سینٹ نے مسترد کیے تھے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف اور نیشنل ایکشن پلان پر عمدرآمد کیلئے یہ بل اتفاق رائے سے پاس ہونا چاہئے، قائمہ کمیٹیاں موجود ہیں جہاں اتفاق رائے پیدا ہوسکتا ہے، جب اتفاق رائے پیدا ہوتو قانون سازی کرلیں، حکومت قانون سازی میں اپوزیشن کو اہمیت نہیں دے رہی، بابر اعوان نے کہا کہ حکومت بھی اپوزیشن سے اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی کرنا چاہتی ہے، قانونی طریقہ کار کو بھی اختیار کرنا ہے اس لیے بلز ایوان میں پیش کیے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر