نیب اور ایف آئی اے کی ناک تلے ایک اور مالیاتی سکینڈل دستک دینے لگا،عوام کو سہانے مستقبل کا خواب دکھا کر تجوریاں بھر لی گئیں

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)نیب اور ایف آئی اے کی ناک تلے جڑواں شہروں میں ہاؤسنگ سکیم کی آڑ میں ایک اور مالیاتی سکینڈل دستک دینے لگا۔صرف600کنال زمین رکھنے والی بلیوورلڈ سٹی نے جڑواں شہروں سمیت پورے پاکستان میں دو لاکھ سے زائد پلاٹوں کی فائلیں فروخت کرکے مال تجوریوں میں بھر لیا۔چکری کے قریب سڑک کے قریب دلکش گیٹ تعمیر کرکے لوگوں کو لوٹا گیا۔چکری انٹرچینج سے راولپنڈی شہر تک سڑک کو دلفریب بینرز سے سجا دیاگیا۔سوسائٹی کے پاس نہ این او سی اور نہ ہی منظور شدہ نقشہ ہے۔نیب اور ایف آئی اے نے شہریوں کے مکمل لٹ جانے تک آنکھوںپر زبردستی پٹی باندھ لی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت

اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہری پرکشش بینرز اور پراپرٹی ڈیلروں کی آفرز کے باعث بلیوورلڈ سٹی میں اربوں روپے دیکر سہانے مستقبل کیلئے پلاٹ خرید چکے ہیں لیکن خوفناک حقیقت یہ ہے کہ بلیوورلڈ سٹی کے پاس نہ تو این او سی ہے اور نہ ہی منظور شدہ نقشہ ہے لیکن یہ سواں اڈے کے قریب مین جی ٹی روڈ پر ایک بڑا دفتر کھول کر گزشتہ دو برس سے لوٹا جارہا ہے اور اس وقت تک دو لاکھ سے زائد فائلیں فروخت کی جاچکی ہیں جبکہ سوسائٹی کے پاس صرف600کنال زمین ہے۔مقامی زمینداروں کی زمین پر قبضوں اور شاملات کی زمینوں کو اپنی سوسائٹی میں شامل کرنے کیلئے مسلح افراد کو سوسائٹی کے اندر بٹھایا ہوا ہے۔بلیوورلڈسٹی کے قرب وجوار میں رہنے والے لوگ اس وقت خوف ودہشت کے سائے تلے زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بلیوورلڈ سٹی کے چیئرمین سعد نذیر سی ای او ندیم اعجاز اور ایم ڈی سرفراز گوندل عوام کے پیسے پر عیاشی کر رہے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ لوٹ مار کا یہ سلسلہ دو سال سے بلاجھجھک جاری ہے جبکہ نیب،ایف آئی اے اورراولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت محکمہ اینٹی کرپشن نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔بلیو ورلڈسٹی کی انتظامیہ نے اپنے پراپرٹی ڈیلروں کو یہ تاثر دے رکھا ہے کہ یہ ایک نیم سرکاری ہاؤسنگ سکیم ہے اور حکومت کی رضا سے کچھ ریٹائرڈ عسکری عہدیداروں کو اہم عہدے دئیے گئے ہیں جبکہ یہ ایک سفید جھوٹ ہے ان عہدیداروں کو صرف نیب،ایف آئی اے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور محکمہ اینٹی کرپشن کا دباؤ روکنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔اس حوالے سے کچھ متاثرین نے آرمی چیف کو بھی خطوط ارسال کئے ہیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر