گراںفروش جیل جائے گااور اس کی دکان سیل ہوگی،عوام کا مفاد بے حد مقدم، مہنگائی مافیا کیخلاف دبنگ اعلان

سوشل میڈیا‎‎

لاہور(این این آئی)صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ٹاسک فورس برائے پرائس کنٹرول کا اہم اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں آٹا، چینی اور دیگر اشیا ضرور یہ کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے بعض علاقوں میں آٹے کے مقررہ نرخوں سے زائد پر فروخت کاسخت نوٹس لیا۔ میاں اسلم اقبال نے کہا کہ آٹے کی اوور چارجنگ پر جرمانہ نہیں بلکہ دکان سیل کردی جائے گی۔ صوبے بھر میں 20کلو آٹے کا تھیلہ860روپے اور 10کلوکاتھیلہ430روپے میں فروخت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سستے آٹے کی

فراہمی کیلئے اربوں روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔عوام کو ثمرات ملنے چاہئیں۔ اجلاس میں ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈان تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اوور چارجنگ کرنے والا جیل جائے گااور اسکی دکان سیلہوگی۔ صوبائی وزیر ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اشیا ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے لئے انتظامیہ اور متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی کل سے مارکیٹوں کے دورے کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی مافیا کو لوٹ مار کے ذریعے غریب عوام کا استحصال نہیں کرنے دیں گے۔انتظامیہ خود قیمتوں کا تعین کرتی ہے ، ان پرعملدرآمد کی بھی ذمہ دار ہے۔ اس سلسلے میں کو تاہی یا غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔عوام کا مفاد بے حد مقدم، ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔وبا اور مزہبی تہواروں کے موقع پر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والے ناجائز منافع خور اپنا رویہ بدلیں۔ صوبائی وزیر نے اشیا ضرور یہ کے نرخ نامے نمایاں جگہ پر آویزاں نہ کرنیوالے دکانداروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کا حکم دیا۔ متعلقہ افسران مانیٹرنگ کی غرض سے منڈیوں کے دورے باقائدگی سے جاری رکھیں۔ کیچن آئٹم اور مصالحہ جات کی قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے۔ اجلاس کے دوران ڈی جی انڈسٹریز نے اوور چارجنگ اور ذخیرہ اندوزی کے کے خلاف کارروائیوں کے بارے بریفنگ دی۔ سیکرٹری صنعت و تجارت کیپٹن ریٹائرڈ ظفر اقبال ،متعلقہ محکموں کے افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔صوبہ بھر کے کمشنر ز، ڈپٹی کمشنر زاور پولیس افسران نے بھی وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر نے بعض افسران کی اجلاس میں غیر حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں متفقہ افسران اپنی حاضری یقینی بنائیں،۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر