ا پوزیشن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ملا کر عددی اکثریت حاصل، ان ہاؤس تبدیلی ہوئی تو نیا وزیراعظم کتنے دن تک رہ سکے گا؟وزیراعظم عمران خان کیخلاف جلد کیسز سامنے آنے کا انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن)سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر ان ہاؤس تبدیلی ہوئی تو کوئی وزیراعظم 60 دن سے زیادہ نہیں رہ سکے گا، پوزیشن کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ملا کر عددی اکثریت حاصل ہے حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر کلبھوشن یادیو کو سہولیات دے رہی ہے ایسے اقدامات سے کشمیریوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ حکومت نے اب اپنے اتحادیوں کو بھی لگا دینا شروع کردیا ہیں اگر ان ہاؤس کوئی تبدیلی آتی ہے تو آنے والا وزیراعظم صرفساٹھ دن کے لیے ہوگا قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ملا کر ہمارے پاس نمبر زیادہ ہیں اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ

حکومت کے کچھ اتحادی کدھر ووٹ دیتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت کے اتحادی ووٹ دیتے ہیں یا نہیں کچھ اتحادی حکومت کے ساتھ نہیں ہیں اور کچھ جانے والے ہوں گے سابق سپیکر نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی آرڈیننس 20 مئی کو جاری کر کے حکومت نے پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھا انہوں نے کہا کہ اس کے حوالے سے کوئی خاص دباؤ نہیں تھا ہم نے انیس سو ساٹھ کا معاہدہ دستخط کیا ہوا ہے کہ ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کو مانیں گے اور عدالتی کارروائیوں کا حصہ بنتے ہوئے عالمی معیار کے مطابق ضروری سہولتیں فراہم کریں گے تو پھر حکومت کس کو خوش کرنے کے لیے آرڈیننس جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان واقعات کی ٹائمنگ بہت اہم ہے کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل ہونے کو ہے ایسے وقت میں حکومت نے بھارت کی سہولت کے لیے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا راستہ واہگہ بارڈر سے کھول دیا ہے کرتارپورراہداری بھی ہندوستان والوں کو خوش کرنے کے لیے بنائی گئی ہے بھارت نے نیپال سے ہمارے ایک ریٹائرڈ کرنل کو اغوا کر رکھا ہے حکومت اس کا کوئی ذکر نہیں کرتی۔ بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر والے کشمیری ہماری طرف سے اٹھائے گئے ہر قدم پر نظر رکھتے ہیں اس طرح کی چیزیں تکلیف دیتی ہیں حکومت شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر کلبھوشن کو مراعات دینے کی کوشش کر رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ حکومت کے ساتھ کسی معاملے پر نہیں بیٹھنا چاہیے تحریک انصاف کا ایک کیس گزشتہ سات برس سے الیکشن کمیشن میں زیر التوا ہے جبکہ کچھ کیسز میں عمران خان کے خلاف بھی جلد سامنے آنے والے ہیں جب یہ کیس سامنے آئے تو نظر آئے گا کہ وہ بہت غیر مستحکم ہیں حکومت کے خاتمے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ عدالت سے نااہل ہو جائے جبکہ دوسرا یہ کہ حکومت کے اتحادی ساتھ چھوڑ دیں۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر