جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپوزیشن کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں جمعیت علمائے اسلام نے حکومت کی جانب سے پیش کئے جانیوالے دونوں بلز کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاً اپوزیشن کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے جمعرات کے روز ایوان بالا میں انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل2020اورکی منظوری کے موقع پر اپوزیشن جماعت جے یوآئی کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ آج ہونے والی قانون سازی پر

جمیعت علمائے اسلام کو نہیں سنا گیا ہے ہم آنکھیں بند کر کے کوئی بھی بات تسلیم نہیں کر سکتے انہوں نے کہاکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ترامیم کرتے ہوئے حکومت کا ساتھ دیا، اس طرح کی قانون سازی پر اس اپوزیشن کے ساتھ دوبارہ نہیں چلیں گے انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو من و عن عمل کرنا درست نہیں ہے آج جس طرح آپ لوگوں نے بل پاس کروائے ہیں اس پر جے یوائی کے تحفظات ہے پاکستان اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے اختیار کردہ قرار دادوں کا پابند ہے قراردادیں شہادتوں کے ذمہ نہیں آتی انہوں نے کہاکہ یہاں بھی مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح کی قراردادیں پندرہ پندرہ سالوں سے اقوام متحدہ میں موخر پڑی ہیں اور اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ جے یوآئی کو قائمہ کمیٹی میں کیو نہیں سنا گیا ہے کمیٹی میں دیگر سیاسی جماعتوں کو بلایا گیا مگر جے یوائی کو کیو نہیں بلایا گیا کیا ہم اس ملک کے دشمن ہے یا اس قوم کے دشمن ہے اپوزیشن کی طرف سے ترامیم لاکر حکومت کو راستہ دینا اپوزیشن کی بڑی ناکامی ہے انہوں نے کہاکہ میں دونوں بڑی اپوزیشن کی جماعتوں سے آج گلہ کر رہا ہوں اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اپنا کردار ادا نہیں کر رہے اس موقع پرانہوں نے متحدہ اپوزیشن سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ سینٹ میں ہم متحدہ اپوزیشن کا کاساتھ نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ ایک دن آئے گا یہ قوم آپ سے حساب لے گی ہم اس قرار داد کے ساتھ نہیں ہے

انہوں نے کہاکہ حکومت نے جو بلز منظور کئے ہیں اس سے بین الاقوامی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا اجلاس کے دوران سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہاکہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے انڈیا ہمارے لئے کوئی مشکلات پیدا نہیں کرسکتا ہے انہوں نے کہاکہ یہ حکومت ہمیں خود اس مقام تک پہنچائے گی جہاں سے واپسی مشکل ہوگی انہوں نے کہاکہ انڈیا ہمیں مشکل میں نہیں بلکہ ہم خود کو خود ہی مشکل میں ڈال رہے ہیں

انہوں نے کہاکہ کیا پاکستان عالمی اداروں کی کالونی ہے اگر حکمران یہ تسلیم کرتے ہیں تو جو بھی حکم وہاں سے آئے تو سر تسلیم خم ہے اگر ہم ایک آزاد ملک،قوم اور ریاست ہیں تو ہمیں اپنے فیصلوں سے یہ تاثر دینا ہوگا کہ ہم آزاقوم ہیں اور ہم اپنے فیصلے خود کرتے ہیں اور ہم پر فیصلے مسلط نہیں کئے جاسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ آج تک ہم ہندوستان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے ہیں ہندوستان نے کشمیر کو ہڑپ کر لیا

اور آئے روز لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں مگر ہم نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا ہے انہوں نے کہاکہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ہماری پوزیشن کیا ہے انہوں نے کہاکہ ان اداروں میں قانون سازی ہوتی ہے اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہے تو ہم مل بیٹھ کر فیصلے کر سکتے ہیں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں چھوٹی جماعتوں سے مشاورت نہیں کرتے ہیں اگر آپ کا رویہ اسی طرح رہے گا تو ہمارا ساتھ چلنا مشکل ہوجائے گا

انہوں نے کہاکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حوالے سے ہمارا بڑا واضح موقف تھا اورہم اپنے موقف پر آج بھی قائم ہیں کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اور اسی وجہ سے ان سے معاملات سنبھالے نہیں جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ اتنی بڑی پارٹی اوراکثریتی جماعت کی صفوں میں باصلاحیت افراد نہیں ہیں اور باہر کے ممالک سے لوگوں کو بلایا جاتا ہے اور ان کو کابینہ اجلاسوں میں بٹھایا جاتا ہے اور اہم عہدے دئیے جاتے ہیں

انہوں نے کہاکہ ملکی معیشت کی صورتحال اس وقت کیا ہے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا چینی چوروں کو سزائیں دینے کی بجائے انہیں پروٹوکول کے ساتھ لندن اور امریکہ بھیج دیا گیا انہوں نے کہاکہ ہم نے روز آول سے نیب کے قانون کو کالا قانون کہا ہے کہ مخالفین اور سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے کیلئے بنایا گیا ہے حکومت نے کرپشن کے خاتمے کیلئے اب تک کیا اقدامات کئے ہیں کیا صرف اپوزیشن کا احتساب مقصود ہے یہ کیا انصاف ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے چندے شروع کئے مگر آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ اس چندے کا کیا گیا ہے انہوں نے مطالبہ کیاکہ کرونا کے حوالے سے غیر ملکی امداد سے متعلق قوم کو اگاہ کیا جائے۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر