سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کیخلاف کیا کیا جائے گا ؟ اعلان کر دیا گیا

سوشل میڈیا‎‎

راولپنڈ(این این آئی) صوبائی وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پر مبنی مواد پھیلانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی مشاورت سے جامع طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم علمائے کرام بھی ان شر پسند عناصر پر کڑی نظر رکھیں جو سوشل میڈیا کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور مذہبی ہم آہنگی کی فضا ء کو خراب کرنے کا سبب بنتے ہیں، ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں اور ان کو بے نقاب کرنے اور کیفرر کردار تک پہنچانے کے لئے انتظامیہ کی مدد کریں۔ان خیالات کو اظہار انہوں نے پنجاب کابینہ کی سب کمیٹی برائے  امن و امان کے ایک اجلاس کی پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ریونیو کرنل انور، صوبائی وزیر خواندگی و غیر رسمی تعلیم راجہ راشد حفیظ،

صوبائی وزیر امور نوجوانان تیمور بھٹی، صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت انصر مجید اور وزیر بہبود آبادی ہاشم ڈوگر، آئی جی پنجاب کیپٹن(ر) عارف نواز خان اور ایڈیشنل سیکرٹری ہوم پنجاب مومن آغا نے بھی شرکت کی۔ کمشنر راولپنڈی کیپٹن(ر) محمد محمود، ڈویژنل امن کمیٹی سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور راولپنڈی ڈویژن کے تمام اضلاع کے انتظامی اور پولیس افسران نے بھی شرکت کی۔ وزیر قانون پنجاب راجہ محمد بشارت نے کہا کہ ہمیں صرف محرم الحرام کے دوران ہی نہیں پورا سال امن و امان برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار کرنا چاہئیے اور یہ علماء کرام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لئے اختلاف پیدا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک آدھ واقعہ کے علاوہ راولپنڈی میں عمومی طور پر مذہبی ہم آہنگی کی فضا برقرار رہتی ہے کیونکہ اس خطہ کی تاریخ ہے کہ یہاں سب ایک دوسرے کے عقیدے کا اخترام کرتے ہیں۔ وزیر قانون راجہ محمد بشارت نے کہا کہ اس ماہ محرم کے دوران بھی مذہبی رواداری کا ثبوت دینا ہے، شرپسند عناصر کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانا ہے اور اگر کوئی غلط فہمی پیدا بھی ہو جائے تو اس کو مقامی سطح پرحل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے ماتمی جلوسوں کے دوران تاجر برادری کا انتظامیہ کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔راجہ بشارت نے کہا کہ حکومت کسی ایک فرد، فرقہ یا خاص سوچ کی حمایت نہیں کرتی، بلکہ حکومت مکمل طور پر اس حوالے سے غیر جانبدار ہے اور تمام مکاتب فکر کے ساتھ یکساں برتاؤ پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے دوران مساجد میں ایس او پیز کے نفاذ میں علماء کا کردار قابل تعریف ہے اور اب ہم بفضل رب اس وبا ء کے خاتمہ کی طرف گامزن ہیں۔کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود نے کہا کہ فرقہ واریت پھیلانے والے ملک دشمن عناصر کا مقابلہ مذہبی ہم آہنگی ہی سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں علماء کا تعاون قابل ستائش ہے اور آئندہ بھی اس ماحول کو برقرار رکھا جائے گا جس کے لئے انتظامیہ ہر ممکن تعاون فراہم کریگی۔آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا کہ پنجاب پولیس امن و امن برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تھانہ کی سطح پر بھی مقامی علماء سے رابطہ کیا جائیگا تاکہ محرم ضابطہ اخلاق کے نفاذ کو علماء کے تعاون سے یقینی بنایا جا سکے۔ اس موقع پر راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے کابینہ سب کمیٹی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پیر سید سعادت شاہ، سجادہ نشین چورا شریف اٹک،سید اظہار بخاری، زونل خطیب راولپنڈی اقبال رضوی اور دیگر علماء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر