اداروں سے ٹکرائو کی بات کر جان نہیں چھڑا سکتے ،آپ سی سی پی او ہیں توکل کوئی اور ہو گا ۔۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو بڑا حکم جاری کر دیا

سوشل میڈیا‎‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں موٹر وے کیس کی عدالتی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق حکومت چاہے تو عدالتی تحقیقات کرا سکتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ے کہ موٹرو کیس میں ملزمان کودو دن میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائے

۔ انہوں نے آجی پنجاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اداروں سے ٹکرائو کی بات کر کے جان نہیں چھڑا سکتے ۔ متاثرہ خاتون اور بچوں کی زندگی تباہ ہو گئی ہے ہمیں آپ اداروں سے ٹکرائو کی بات سنا کر اپنی جان نہیں چھڑا سکتے ۔ چیف جسٹس نے سی سی پی او عمر شیخ کو کہا کہ آج آپ سی سی پی او لاہور ہیں تو یہاں کل اور سی سی پی او ہو گا ، ایسے متنازع بیانات سے پرہیز کریں جس سے قوم کو بھی تکلیف پہنچے ۔ قبل ازیں موٹروے کیس کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے اور سی سی پی او نے وہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں موٹر وے کیس کی عدالتی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق حکومت چاہے تو عدالتی تحقیقات کرا سکتی ہے۔ قانون پڑھ لیں اور مجھے بھی بتائیں کہ کس قانون کے تحت یہ حکم جاری کریں،صرف خبرچھپوانے کے لیے درخواستیں دائر نہ کی جائیں۔سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج ہے اور تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔دورانِ سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی پی اونےوہ جملہ بولا جس پرپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے، یہ کیا انویسٹی گیشن ہے جس میں سی سی پی او مظوم خاتون کوغلط کہہ رہا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ سی سی پی او نے جو بیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟

اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری ہورہی ہے، عدالت نے پوچھا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی اوکے بیان پر پر انکوائری ہورہی ہے؟ اس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہپورے معاملے کی انکوائری ہورہی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا تاکہ قوم کی بیٹیوں کو حوصلہ ہوتا، بہت سے وزرا نے عجیب وغریب بیانات دیے، پتا نہیں انویسٹی گیشن ہورہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے۔عدالت نے واقعے کی تحقیقات کےلیے کمیٹی کا نوٹیفیکشن اورتازہ رپورٹ طلب کر لی جب کہ سی سی پی او لاہور کو بھی آج ہی طلب کرلیا۔واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نےلاہور موٹروے کیس سے متعلق متاثرہ خاتون کے حوالے سے دیئے گئے اپنے متنازعہ بیان پرقوم سے معافی مانگ لی ہے ۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر