موٹروے کیس سے عابد علی کا چوتھے ساتھی علی شیر کا تعلق ہے یا نہیں ؟وہ اس قت کہاں پر ہے ؟ تہلکہ خیز انکشاف

سوشل میڈیا‎‎

لاہور (این این آئی)موٹروے متاثرہ خاتون کیس میں ملزمان کا گینگ 3نہیں 4 افراد پر مشتمل ہونے کا انکشاف سامنے ہوا ہے ،گینگ میں عابد علی، شفقت،اقبال بالا مستری اورعلی شیر شامل ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق لنک روڈ متاثرہ خاتون کیس کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کا گینگ 3نہیں 4افراد پر مشتمل ہے، گینگ عابد علی،

شفقت،اقبال بالا مستری اورعلی شیر پر مشتمل تھا۔پولیس نے بتایا کہ ایک ماہ قبل ملزمان نے شیخوپورہ تھانہ فیکٹری ایریا میں ڈکیتی کی، عابد علی اورعلی شیرگرفتار ہو گئے جبکہ شفقت فرارہوگیا، علی شیر جیل میں ہے، ملزم عابد کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اقبال عرف بالا مستری کرول گھاٹی کارہائشی تھا، ملزمان زیادہ تر لوٹ مار کے واقعات شیخوپورہ میں کرتے تھے، عابد اور علی شیر کی گرفتاری کے بعد ملزمان نے لوٹ مار لاہور میں کرنے کا منصوبہ بنایا۔پولیس نے مزید بتایا کہ اقبال بالا مستری نے گینگ کو کرول گھاٹی کے قریب لوٹ مار کا مشورہ دیا اور شفقت اور عابد کو کرول گھاٹی بلایا، شفقت اور عابد کرول گھاٹی پہنچ گئے مگر اقبال نے آنے سے انکار کیا، واردات کے دوران عابد نے پہلے خاتون کی آبرو ریزی کی۔حکام کا کہنا تھا کہ عابدخواتین کی بے حرمتی ہے ،شریک جرم شفقت پہلے خواتین کی بے حرمتی کے کیس میں ملوث نہیں، وقوعہ کی رات عابدنے شفقت کوبھی خاتون کی آبرو ریزی کرنے کا کہا جس پر اس نے انکارکیا، عابد کی جان سے مارنے کی دھمکی پرشفقت نے بھی خاتون کی آبرو ریزی کی۔پولیس نے کہا کہ ڈولفن فورس پہنچی توشفقت اورعابد جائے حادثہ کے قریب ہی موجود تھے، ملزمان ڈولفن فورس کی فائرنگ سن کرجنگل میں چھپ گئے، شفقت نے بتایا کہ وہ 2گھنٹے جنگل میں چھپے رہے، وقوعے کے بعد دونوں ملزم قلعہ ستار شاہ عابد کی رہائش گاہ پہنچے۔انکشافات میں بتایا گیا کہ غازی کوٹ میں عابد نے کچھ عرصہ قبل 2مرلہ کا گھر خریدرکھاتھا ، شفقت اگلی صبح دیپالپور چلا گیا جہاں وہ برف خانے میں کام کرتا تھا، میڈیا پر خبر دیکھنے کے بعد عابد گھر سے فرارہوگیا، شفقت نے بھی کام پر جانا چھوڑ دیا اور اپنی بہن کے گھرجابیٹھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم شفقت کی بہن کواس کے جرم کا علم نہیں تھا، پولیس نے ملزم شفقت کو اس کی بہن کے گھر سے گرفتار کیا۔

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر