’’ کراچی شہر کے تمام اضلاع آفت زداہ علاقے قرار‘‘ سمندر کی زمین کو ہموار کرنے کا ایک اور ناجائز عمل کا آغاز ہو گیا

خصوصی فیچرز

کل جب یہ خبر پڑھی کے کراچی شہر کے تمام اضلاع آفت زداہ علاقے قرار دیئے گئے ہیں تو خیال آیا کے اگلے ماہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سال کے بل جاری کریگا اور کیا آفت زدہ قرار دینے پر ان بلوں میں کوئی تخفیف ہو گی ہرگز نہیں ، بلکہ اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ سڑکوں کی مرمت کی ادائیگی بھی ہمارے زمرہ میں آیگی ، یہ سب اس لیے کے سمندر پر ماحولیات کی تباہی اور بڑی عمارتوں کی تعمیرات کے خلاف

ہم نے آوآز نہیں بلند کی بلکہ ان میں رہائش کو ترجیح دی ، نتیجتاً ساحل سے کافی دور ایک جدیدE بلاک کے لیے سمندر کی زمین کو ہموار کرنے کا ایک اور ناجائز عمل کا آغاز ہو گیا ہے ، شاید آفات اس لئے بھی آتیں ہیں کے ہم قدرتی عمل میں دخل انداز ہو رہے ہیں۔ آج نرسری کی فرنیچر مارکیٹ سے گزر ہوا اور دل د ماغ پر ایک بوجھ ہے کہ ایک طرف ہم بجلی کے جانے پر خفاء ہیں اور دوسری جانب کئی دوکاندار اپنی زندگی کے اثاثوں اور روزگار سے محروم ہو گئے ہیں ، کسی وزیر یا مشیر نے نرسری اور دوسری مارکیٹوں کو مدد تو درکنار دو ہمدردی کے لفظ نہیں کہے’’إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون‘‘۔ گزشتہ شب سے سو شل میڈیا پر شدید غصّے کا ماحول ہے ایک جانب بابائے قوم کے مزار پر احتجاج کی درخواست کی جارہی ہے تو دوسری طرف وکلاء آینی درخواستوں پر دستخط مانگ رہے ہیں ، اور اس عدلیہ کے روبرو جسکے بیشتر جج حضرات نے بجلی کے دوہرے کنکشن لیے ہوئے ہیں اور جب کے اطراف میں تاریکی ہے لیکن انکی بیگمات خوش ہیں کہ قربانی کا گوشت پگل نہیں رہا ۔ یاد رہے کہ جب بولٹن مارکیٹ میں آگ لگی تھی تو کراچی کے تاجروں نے یکجا ہوکر امداد دی لیکن اب نہ صرف ان د وکانداروں بلکہ کراچی کی اکثریت نے اپنی امید یں ریاستِ مدینہ سے باندھ لی تھیں ، لیکن امیرِ ریاست نے شہر کراچی کے مسائل کاحل اور تاریکیوں سے رروشنیوں کی طرف لیجانے کے لئے اور کپتان ہونےکے ناطے از خود کھیل کا آغاز نیشنل اسٹیڈیم سے کرنے کی بجائے دو آزمائی ہوئی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو ترجیح دی ، یاد رہے کہ ناظم آباد سے ٹاور کی سڑک گزشتہ پانچ سالوں سے

نا مکمل ہے اور دو برس سے وفاقی اور صوبائی وزراء ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں ۔ ایسا محسوس ہو تا ہے کہ یہ صرف چند دنوں کی باتیں ہیں ، جب کل بازار حصص کھلے گی تو پھر وہی آئی ایم ایف، گردشی قرضے ، ایف اے ٹی ایف کی روداد اور ویبینار کے ساتھ سمینار ، ظہرانے اور رات دیر تک عشائیے

اور شادیوں کا سیزن اور پھر وہی ۱۴ اگست ایک دن کی وطن سے محبت نوجوانوں کا گاڑیوں پر پرچم لہرا کر کلفٹن کا تیل آلودہ ساحل اور ہاکسبے کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر ایک دوسرے سبقت لیجانے کا مظاہرہ ، کاش کے ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے نیا نہیں بلکہ پرانا پاکستان واپس لے آئیں۔ (تحریر :معین فدا، چیرمین سی،ڈی،سی بورڈ)

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اس وقت زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اوپر